شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ‏میں جھکا نہیں میں بکا نہیں کہیں چھپ چھپا کے کھڑا نہیں جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر مجھے اُن صفوں میں تلاش کر

‏میں جھکا نہیں میں بکا نہیں کہیں چھپ چھپا کے کھڑا نہیں جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر مجھے اُن صفوں میں تلاش کر

میں جھکا نہیں میں بھکا نہیں
کہی چھپ چھپا کے کھڑا نہیں
جو ڈٹے ہوئے ہیں محاز پر
مجھے ان صفوں میں تلاش کر
ضیاء الرحمن پی ٹی آئی چترال
سوشل میڈیا میں حالیہ بیانات اور حالات کو دیکھتے ہوئے دل نے چاہا کہ ویڈیو بناوں پھر سوچا کہ ویڈیو پھر کبھی صحیح پہلے جو دل میں ہے وہ اپنے احباب تک پہنچادوں۔۔۔
جناب والا!
2006 سے میں پارٹی میں ہوں جب پارٹی میں گنتی کے چندہی افراد موجود تھے۔بحیثیت صدر آئی ایس ایف ڈگری کالج چترال اپنے تمام ہم خیال دستوں کے ساتھ عمران خان کی آواز پر لبیک کہا اس کے بعد اپنے حد تک پارٹی کو چترال میں گھر گھر پہنچانے کی بھر پور کوشش کی جس کی گواہی پارٹی کے کوئی بھی سینئر دے سکتا ہے۔اس کے بعد2009 سے بحیثیت صدر آئی ایس ایف ڈسٹرکٹ چترال ذمہ داریاں مجھ پر عائد تھی حالانکہ اس وقت کوئی بھی اہل بندہ سامنے موجود نہ ہونے کی بنا پر یہ عہدے مجبورا مجھے سونپ دیا گیا جسے خوش اسلوبی سے بھایا۔پھر یوتھ ونگ چترال کے صدر کی حیثیت سے تقریبا

 

سات آٹھ سال سے زیادہ پارٹی میں مشور کے مطابق انصاف انساینت اور خداری پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش کی الحمد اللہ اس میں تقریبا کامیاب بھی ہوا۔اس دوران کسی نے بھی ایک کلاس فور بھرتی کرنے ایک روپے کی کرپشن کا الزام مجھ پر ثابت نہیں کرسکا۔القصہ مختصر یہ سجاد احمد صاحب کوبہت پہلے سے جانتا ہوں آج جو لوگ بہت سے دوست سجاد صاحب کے گن گارہے ہیں۔ پہلے وہ کسی اور پارٹی میں تھے یا وہ لوگ پی۔ٹی۔آئی کو صرف بچوں کا پارٹی کہہ کر مذاق آڑایا کرتے تھے۔اب اتے ہیں عبدلالطیف کی جانب چترال میں کئی سالوں تک عبدالطیف صاحب نے صدارت کی پارٹی نے عزت بھی دی۔2008/2013/2018 کے ٹکٹ بھی دیئے گئے۔چترال کی بد قسمتی سمجھے یا لطیف کی لیکن عبدلالطیف کو مسلسل شکست کا سامنا ہوا۔اب آتے ہیں حالیہ الیکشن یا سلیکشن کی طرف 6ستمبر 2019 کو ایڈیشنل جنرل سیکریٹری ملاکنڈ ڈویژن کے احکامات کی روشنی میں صدر عبد الطیف نے تمام یوسی صدور کو باہمی مشاورت کے لیے ماؤنٹین ان ہوٹل میں مدعو کیا۔جس میں سینئر ورکرز نے بھی شرکت کی۔اس میٹنگ کی ویڈیو اور تصاویر ابھی بھی سوشل میڈیا میں دستیاب ہیں۔اس میٹنگ میں متفقہ طور پر تمام یوسیس کے صدور نے فیصلہ کیا کہ سرتاج احمد صدر اورجبکہ جنرل سیکریڑی امین الرحمن ہونگے۔جس پر حال میں موجود سینئر قیادت جناب حاجی سلطان،عبدالطیف، اسرار صبور اورشہزادہ امان الرحمن اور مشیئر وزیر اعلی وزیر زادہ نے مبارک باد دی۔اس کے اگلے صبح ملاکنڈ کے جنرل سیکریٹری بشیر خان سینئر رہنما شیرین خان نے ایک بڑے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے چترال کی تنظیم سازی کو دوسرے ڈسٹرکٹ کے لیے مثال قرار دے دیا اور جلد نوٹیفیکشن کا کہہ کر چلے گئے۔پھر ہمارے چند لیڈروں نے محاز گرم کیا اور ورکروں کے فیصلوں کو یکسر مسترد کرکے اور لوگوں سے یہ کہنا شروع کردیاکہ ہم نیا صدر لارہے ہیں اور مختلف قسم کے حربے استعمال کررتے رہے بالآخراپنے منصوبے پر کامیاب بھی ہوئے۔
اس طرح چترال میں پارٹی میں موجودخوداردی اور نظریہ کو شکست ہوئی اورسفارش اور تلعقات کی فتح ہوئی۔بقول ایک سنیئر رہنما کہ پرانے چہرے ہیں یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ کیا وفاقی کابینہ میں اکثریت پرانے چہروں کی ہے یا دوسروں پارٹی سے آئے نئے چہرووں کی۔کیا وہ بہترین پوسٹوں پر براجمان نہیں ہیں کیا یہ پالیسی صرف اور صرف چترال کے لیے ہی ہے۔؟؟؟؟

 

اس فیصلے پر تمام نظریاتی کارکنا ن نے ریکشن دی اورنئے فیصلے کو یکسر مسترد کردیا۔اور کابینہ میں کئی نظریاتی اور زاتی مفاد سے بالاتر اشخاص نے احتجاجا اپنے عہدوں سے استعفا دے دیا میں ذاتی طور پر ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔دسوسری بات اگر یہ فیصلہ منظور کیا گیا بقول ہمارے دوسرے دوستوں کے پارٹی قیادٹ کا فیصلہ ہے ایسے ہے جیسے کہ ورکر اپنی آنکھیں بند کرکے ہر فیصلہ کو مانا جائے۔اگر کوئی بھی فرد اپنے ذاتی تعلقات کے بنا پر الیکشن میں ٹکٹ لیکر آجائیں چاہے خالد پرویز یا کوئی اور کیا آپ لوگ مانیں گے۔
بقول آپ کے وہ بھی پارٹی قیادت سے ٹکٹ لیکر آئیں گے۔پھر اس سفارشی سسٹم کو کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ اس میں ورکروں کو کیوں ذلیل کیا جارہا ہے۔اور پی ٹی آئی میں ورکروں کا کیا کام؟کیا ورکر صرف نعرے اشتہارات لگانے ووٹ دینے اور جلسہ جلوس منعقد کے لیے ہیں۔
جناب والا
کان کھول کر سن لیں ہم کھبی بھی یہ ہونے نہیں دینگے۔ہمارا ذاتی اختلاف کسی کے ساتھ بھی نہیں ہے ہم صرف اور صرف ورکر زکی عزت کے لیے آواز اٹھاتے آئے ہیں اور آٹھاتے رہیں گے اور میں بذات خود اس قسم کے تمام فیصلوں کو مسترد کرتا ہوں۔
کیونکہ ہمارے لیڈر عمران خان کا کہنا ہے کہ اصل میں انسان کی پہچان اس کا نظریہ ہے۔اگر غلط کو غلط نا کہیں تو میرا کٹا م موٹو بھی مجھ سے کبھی بھی مخالفت نہیں کرے گاچاہے میں کسی کو تقل بھی کردوں وہ میرے پیچھے دم ہلاتا پھیرے گا۔انسان وہ ہے جس کا نظریہ ہو اور میں اپنے خان صاحب کے اس وژن کے ساتھ ہوں۔
خون دل دے کے نکھاریں گے برگ گلوب
ہم نے ہر حال میں گلشن کی تقدس کی قسم کھائی ہے۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!