شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال کی خوبصورت وادی آیون جاذب نظر اور دلکش باغوں کیلئے مشہور ہے۔ ایک ہی پودے میں کئی محتلف رنگوں کے گلاب سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے

چترال کی خوبصورت وادی آیون جاذب نظر اور دلکش باغوں کیلئے مشہور ہے۔ ایک ہی پودے میں کئی محتلف رنگوں کے گلاب سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے

چترال(گل حماد فاروقی) ویسے تو پورا چترال پھولوں کا شہر سمجھا جاتا ہے مگر بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں قدرت نے اپنے بیش بہا حسن کے خزانے لٹانے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں نے اس حسن میں اضافہ کیا ہے۔ آیون اس قسم کے پھولوں کے باغات کیلئے بہت مشہور ہے۔
آیون نے ناصر احمد خان ٹھیکدار کے والد مرحوم نے ایک ایسا باغ لگایا ہے جہاں پودے زمین کی بجائے  دیوار میں لگائے گئے ہیں۔ اس باغ کی ایک اور حاص بات یہ ہے کہ یہاں ایک ہی پودے میں گلاب کے محتلف انواع و اقسام کے قلم لگائے گئے ہیں اور ایک ہی پودے میں یہ رنگ برنگی گلاب نہایت خوبصورت لگتے ہیں۔
ہمارے نمائندے نے حصوصی طور پر  اس باغ کا دورہ کرکے اس کی عکس بندی کی۔ ناصر احمد خان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ اس کے مرحوم والد صاحب کا شو ق تھا  اور میں نے بھی اسے جاری رکھا۔ ناصر خان نے بتایا کہ وہ فرصت کے لمحات میں یہاں آکر ان پھولوں کے ساتھ  شعل کرتا ہے جس سے اس کا وقت بھی اچھی طرح گزرتا ہے اور اسے ایک روحانی سکون بھی ملتا ہے۔
مدثر احمد خان  جو سیکنڈ ائیر کا طالب علم ہے اور ناصر کا چھوٹا بیٹا ہے اس کا کہنا ہے کہ مجھے بھی اپنے دادا اور والد صاحب کی طرح ان پھولوں سے بہت شوق ہے اور میں بھی چھٹیوں میں ان پھولوں کے ساتھ  وقت گزارتا ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کل کرونا وائریس کی وجہ سے دنیا بھر کے لوگ گھروں میں خود ساحتہ قرنطینہ میں قید تنہائی گزار رہے ہیں اس سے بہتر یہ ہے کہ اپنے گھروں میں پھول لگائے ان کے ساتھ پیار کرے اور بدلے میں یہ پھول بھی ہم سے پیار کرتے ہیں ہمیں خوشیاں دیتے ہیں اور ہمیں ہشاش بشاش اور تازہ دم رکھتے ہیں۔
مدثر احمد خان نے مزید بتایا کہ اگر انسان ان پھولوں کے ساتھ دلچسپی رکھے اور پھولوں کے باغ میں رہے تو اس کا قوت مدافعت بہت مضبوط ہوتا ہے اور اس پر بیماریاں بھی اثر نہیں کرتے۔
اگر علاقے کے ہر فرد شاکرا لدین اور ناصر احمد خان کی طرح شوق رکھے اور اپنے گھروں میں پھولوں کے باغ لگائے تو یہ پورا  حطہ گل گلزار ہوجائے گا اور  یہ زمین پر جنت کا تکڑا نظر آنے لگے گا۔
Facebook Comments
error: Content is protected !!