شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / تاجر برادری میں بھی مخیر حضرات نے کرونا وائریس سے بچاؤ کی حفاظتی سامان اور غریبوں میں امدادی سامان مفت تقسیم کی۔

تاجر برادری میں بھی مخیر حضرات نے کرونا وائریس سے بچاؤ کی حفاظتی سامان اور غریبوں میں امدادی سامان مفت تقسیم کی۔

چترال(گل حماد فاروقی) کرونا وائریس سے بچاؤ کیلئے حفاظتی سامان کی چترال انتظامیہ کے پاس شدید قلعت تھی جسے بارہا میڈیا میں دیا گیا اس پر کاروائی کرتے ہوئے غیر مقای تاجر برادری بھی میدان میں کھود گئے۔ بٹ خیلہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان بزنس مین ذیشان نے ہمارے نماندے کے درخواست پر تحصیل میونسپل انتظامیہ کو ایک ہزار ماسک، دو کاٹن سینٹائزر، متعدد پلاسٹک کے فیس ماسک، دستانے، کرونا سے بچاؤ کا پورا ڈریس کٹ، حفاظتی ٹوپیاں اور دیگر حفاظتی سامان تحصیل میونسپل آفیسر مصباح الدین کے حوالہ کیا اس سلسلے میں سماجی فاصلے کا حیال رکھتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر چترال عبد الولی خان کے دفتر میں ایک سادہ تقریب منعقد ہوا جس میں اے سی چترال عبد الولی خان مہمان حصوصی تھے انہوں نے یہ سارا سامان ٹی ایم او مصباح الدین کے حوالہ کیا۔
ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے اے سی چترال عبد الولی خان نے ذیشان اور دیگر محیر حضرات کا شکریہ ادا کیا جو مصیبت کے اس گھڑی میں ضلعی انتظامیہ اور حکومتی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور عوام کو کرونا کی وباء سے بچاؤ کے حاطر حفاظتی سامان عطیہ کے طور پر دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں جو تمام لوگوں کو یہ حفاظتی سامان مفت فراہم کرے تاہم اس سلسلے میں ذیشان جیسے مخیر حضرات کی یہ کاوش قابل تحسین ہے۔
کرونا وایریس سے بچاؤ کا یہ حفاظتی سامان تحصیل میونسپل آفیسر نے میونسپل انتظامیہ جو قرنطینہ مراکز میں جراثیم کش سپرے کررہے ہیں ان میں تقسیم کیا ان کے علاوہ تاجر یونین دروش کے صدر حاجی گل نواز خان اور ڈرائیور یونین دروش کے صدر کو بھی ماسک اور سینٹائزر عطیہ کے طور پر دئے جو دروش کے دکانداروں، ڈرائیوروں اور عام لوگوں میں مفت تقسیم کیا جائے گا۔

ٹی ایم او نے بعد ازاں یہ حفاظتی سامان سبزی منڈی چترال کے اڑھتیوں اور اتالیق بازار میں سبزی، فروٹ فروشوں، ریڑہ بانوں میں مفت تقسیم کیا۔
بعد ازاں اسی گمنا م سپاہی نے چترال کے 37 گھرانوں میں امدادی سامان بھی مفت تقسیم کیا جو گھی، چاول اور آٹا پر مشتمل تھا۔
تحصیل میونسپل آفیسر نے ذیشان کا بے حد شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم اے نہایت محدود وسائل کے ساتھ کرونا وائریس کے حلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہی ہے اور قرنطینہ مراکز، ہسپتال اور عوامی مقامات میں جراثیم کش سپرے کررہے ہیں ان کا عملہ ظاہر ہے قرنطینہ مراکز اور ہسپتال بھی جاتے ہیں جہاں کرونا وائریس کے مریض بھی موجود ہوتے ہیں اور ان کے عملہ کو بھی براہ راست حطرہ لاحق ہوتا ہے تاہم محیر حضرات کی اس حفاظتی سامان اور کٹ سے ان کو ایک حد تک اس بیماری کی اثرات سے بچایا جاسکتے ہیں۔ ٹی ایم او یہ حفاظتی سامان مرحلہ وار چترال اور دروش کے عوام میں مفت تقسیم کریں گے

Facebook Comments