شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / سُنا ہے صفائی نصف ایمان ہے۔۔۔۔میرسیما آمان

سُنا ہے صفائی نصف ایمان ہے۔۔۔۔میرسیما آمان

زیر نظر تصاویر گولدور گول (نالہ) کے اس مقام کی ہیں جو گولدور کو علاقہ جنگ باذار سے ملاتی ہے اس پل کے اوپری سڑک کے بائیں طرف بیکری اور اس سے ملحقہ بازار ہے جبکہ دائیں طرف صرف چند قدم کے فاصلے پر ہسپتال ،ڈی سی آفس ،ڈی سی ہاوس، آفیسر میس سکول اوربیشتر دفاتر موجود ہیں، اس لحا ظ سے سکول دفاتر ہسپتال جانیوالے سینکڑوں افراد کا دن بھر اس پل سے گزر ہوتا ہے۔جسکے نیچے کوڑے کا یہ ڈھیر سالہ سال انتظامیہ کا مُنہ چڑھا رہی ہے۔

 

اس کے علاوہ اگر آپ گولدور چوک سے گورنر ہاوس تک یا چیوڈوک کے آخری سرے تک ایک لانگ واک پر نکلیں تو آپکو ” صفائی ”کے ایسے کہیں اور نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔زیر نظر تصاویر میں آپ انکی صرف ایک جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ گولدور چترال کا مین ایریا ہے جہاں کہیں سرکاری دفاتر بھی موجود ہیں اور گورنر کاٹیج کا راستہ بھی گولدور سے ہی گزرتا ہے۔

۔یہ بات بتانے کی نہیں کہ پورا سال ہر قسم کے سرکاری مہمانوں کا گزر یہی سے ہوتا ہے اب اگر ایسے مین ایریا میں صفائی کا یہ حال ہو تو باقی کا کیا حال ہوگا۔۔۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر ادارے کی طرح میونسپل کمیٹی بھِی اپنی فرائض سے کو تاہی برتنے میں پیش پیش ہے۔کوئی ان سےپوچھنے والا نہیں کہ ”’ ڈسٹ بن ” کس بنیاد پر تقسیم کیے جارہے ہیں۔؟؟

ایک اندازے کے مُطابق کچھ مخصوص لوگوں کو گھروں کے اندر رکھنے تک کے لیے نہ صرف ڈسٹ بن مہییا کیے جا رہے ہیں بلکہ گھروں کے اندر سے کوڑا تک آٹھایا جاتا ہے دوسری طرف بعض جگہوں میں ڈسٹ بن کی عدم فراہمی اور کوڑا نہ آٹھانے کی وجہہ سے لوگ مسائل کا شکار ہیں۔

ادارے کے اہلکار اس بات پر جواب دہ ہیں کہ ڈست بن جیسی چیز کی فراہمی پر بھی وہ آخر کس ” تعصب ” کا شکار ہیں ؟ ؟ اسکے علاوہ علاقے کے وہ لوگ جو اپنا کوڑا دوسروں کے درواذوں کے اگے رکھ کر بھاگ جاتے ہیں میں ان سے پوچھنا چاہونگی کہ کیا ”واقعی صفائی نصف ایمان ہے؟؟یہ کیسا ایمان ہے جو صرف اپنے صحن چمکانے تک ہی محدود ہے ۔۔

وہ شخص جوصرف اپنی شرافت کی بنا ء پر پورا سال اپنے درواذے کے اگے آپکا ” گند ” برداشت کرتا ہے ذرا بتائیے گا ”وہ ” آپکی ” گند گی ” کا ذمہ دار کیونکر ہے ؟؟؟؟ کیونکہ وہ شریف ہے آپکا کوڑا واپس اپکے منہ پر نہیں مارتا۔۔۔نجانے ہمارے معاشروں میں شرافت کا یہ ”انعام ” کب بدلے گا،،ایسے ہی لوگوں کے لیے کسی نے خوب فرمایا ہے کہ میرے دیس میں غیلظ دل رکھنے والوں کا نصف ایمان صفائی ہے۔۔””

سوچنے کی بات ہے کہ ایمان کے نام پر صفائی کرنے والے ہمارے سینکڑوں مسلمان بہن بھائی روز قیامت اپنی کیسی کیسی حرکتوں پر جواب دہ ہونگے۔

آخری بات میں صرف اتنا کہونگی کہ چترال خوبصورت اسلیے ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اسے قدرتی حسن سے نواذا ہے۔ہم بحیثیت قوم اس خوبصورتی پر فخر تو کرتے ہیں مگر اسکی حفاظت کے لیے نہ ہماری کوئی سوچ ہے نہ تدبیر۔۔براہ مہربانی اس ” خالی خولی فخر ” سے نکلیں ۔اداروں کے ساتھ ساتھ اپنی انفرادی کردار بھی ادا کریں۔

صفائی ایمان ہے کو صرف اپنی صحن تک محدود نہ کریں دیکھیں آپکا صحن کس کے درواذے کو کوڑے کا ڈھیر بنانے کے بعد ” چمک ” رہا ہے ۔۔ بلکہ میں تو کہونگی تھوڑا جھاڑو اپنی ذہنوں پر بھی پھیر لیں تاکہ محلے میں اڑتے ہوئے آپکو آپکے گند بھی نظر آئیں۔۔ابھی چند عرصہ پہلے گولدور کے نوجوانوں نے بڑی جوش اور ولولے کے ساتھ صفائی مہم کا آغاز بھی کیا تھا لیکن عوام کے اسی رویے کی وجہ سے یہ مہم ذیادہ کامیاب نہ ہوسکا۔۔ اسوقت چترال گول ،دریائی نالے گلی محلے ہر قسم کی گند گیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔۔حالات یہی رہے تو عنقریب نہ صرف چترال کا حُسن بھی ماند پڑے گا بلکہ علاقہ بیماریوں کی آماجگاہ بھی بنے گا۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!