شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پاکستانی ارتغرل غازی….تحریر:میر سیما امان

پاکستانی ارتغرل غازی….تحریر:میر سیما امان

پاک و ہند کا یہ دستور ریاہے کہ جب بھی کوئی فلم یا ڈرامہ ہٹ ہوجائے تو ملک کے  تمام لڑکے لڑکیاں اس ڈرامہ کے مرکزی کردار سے خود کو مشابہ قرار دینا شروع کر دیتے ہیں۔اور یہ معاملہ اذل سے ہے۔ ستر اسی کی دہائی میں اگر حضرات خود کو امیتابھ ۔ دلیپ کمار یا پاکستان کے محمد علی سمجھتے تھے تو نوے کی دہائی میں ہر کوئی شاہ رخ اور سلمان خان بنا پھرتا تھا۔
اج علاقے کا ہر دوسرا نوجوان فواد خان ہے۔۔۔گزشتہ سالوں میں ایک فلم  جب وی میٹ جب ہٹ ہوا تو ہر دوسرا نوجوان شاہد کپور کے گٹ اپ میں نظر آ یا۔حتی کہ اس سال جون جیسے گرم ترین مہینے میں بھی پاکستان کی آ دھی ابادی کالے کپڑوں میں صرف اسلیے جھلستے رہے تاکہ وہ شاہد کپور دکھیں ۔۔کیونکہ اس موی کے ایک سین میں شاہد کپور نے کالے شلوار قمیض کو عزت بخشی تھی۔ اس سے بھی چند سال پیچھے جائیں تو آپکو یا د آجائے گا کہ یہی حالات تب بھی سامنے آئے تھے جب ایک اور ہندی فلم تیرے نام ہٹ ہوا۔۔فلم میں سلمان خان کی جاندار اداکاری سے کوئی متاثر ہوا یا نہیں لیکن سلمان کے ہیر کٹ کے عشق میں مبتلا  ملک کی آدھی سے زیادہ ابادی ایک عرصے تک ماتھے پر بال سجائے مختلف نسل کے بکروں کے روپ میں نظر آتے رہے۔
کچھ ایسے ہی مناظر حال میں ایک بار پھر نظر آ ئے۔جب ترک ڈرامہ ارتغرل  کو پی ٹی وی سے ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔اس ڈرامے کو نشر کرنے کے اصل مقصد کو ایک طرف رکھ کر پاکستان کی باشعور عوام اپنی سابقہ روایات دہراتے ہوئے ایک بار پھر محض ہیرو ہیروئین کے حسن اور کمیسٹری  پر مر مٹ گئی۔۔۔
یہ بات مضحکہ خیز بھی ہے اور افسوس ناک بھی۔۔اکیسویں صدی میں بھی اگر عوام کو اس بات کا شعور حاصل نہ ہوسکا کہ ایک غیر ملکی ڈرامے پر لاکھوں لاگت کا خرچہ کر کے اسے ہماری زبان میں ہم تک پہنچایا جارہا ہے تو اسکے پیچھے  مقصد کیا ہے۔۔۔
ارتغرل غازی کسی عام کردار کا نام نہیں۔۔۔عوام خود کو شاہ رخ سلمان یا شاہد کپور سمجھے یہ بنتا ہے۔ کیونکہ یہ آپ ہی کی طرح کے کردار ہیں لیکن ارتغرل غازی جیسے کردار سے خود کو کمپئر کرنے سے پہلے دس بار نہ سہی میرے ملک کے جوانوں کو ایک بار ضرور سوچنا چاہیے کہ آخر وہ کس حوالے سے ارتغرل کہلا سکتا ہے۔۔۔
ارتغرل کسی اداکار کا نام نہیں یہ اسلامی تاریخ کا وہ کردار ہے جو ایک ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جسکی بہادری رہتی دنیا تک ایک مثال ہے۔جسکی عظمت اور بہادری ہی کی بنیاد پر  اسلامی تاریخ کی عظیم سلطنت  ۔سلطنت  عثمانیہ وجود  میں آ ئی۔۔
میرے ملک کے ایسے جوان جو ایک سلطنت یا خاندان کی بنیاد رکھنا تو بہت دور کی بات ہے ۔ بنے بنائے خاندان کا شیرازہ بکھیرنے میں ماہر ہیں۔۔جن کی بہادری محض بوڑھے والدین پر ہاتھ اٹھانے تک محدود ہے۔۔جنکی غیرت بہنوں کو کاری کرنے یا بیوی کو غیرت کے عنوان پر قتل کرنے پر محدود ہے۔۔میرے دیس کے ایسے جوان جو غذوات کے نام پر محض اپنے گھر کے صحن کو میدان جنگ بنا نا جانتے ہیں جنکی اسلام سے محبت یہ ہے کہ کبھی با جماعت نماز پڑھنے کا جنھیں  شرف حاصل نہ ہو سکا  ہو۔۔جنھیں سنت رسول صل اللہ علیہ وسلم کے نام پر محض چار شادیاں کرنا یاد رہتا ہو۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا کہوں میرے ملک کے ایسے جوان جو مرد ہو کر بھی عورتوں کی طرح چغل خوری ۔مکاری اور سازشوں میں زندگی بسر کرتے ہیں۔۔۔  آپ ایمانداری سے سوچیں ایک طرف ترک کے قائی قبیلے میں جنم لینے والا  ارتغرل جس نے اسلام کی سر بلندی کی خاطر سینکڑوں غذوات   لڑی اور رہتی دنیا تک کے لیے غازی کا لقب پایا ۔۔۔تو دوسری پاکستانی ارتغرل جو جنگ کے نام پر بھی  محض وراثت جیسے مسئلوں پر بہنوں کو دھمکانے اور مارنے کے منصوبوں سے ہی نہیں نکل پاتے ۔۔وہ خود کو ارتغرل غازی کے برابر کیسے کھڑا کرسکتے ہیں۔۔۔
جس نے اپنی جرات مندی اور بہادری سے نہ صرف ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی   بلکہ رہتی دنیا تک اسلام کا نام روشن کیا ۔۔ایک ایسا کردار جس پر محض ڈرامہ بننے سے ہی ایک عالم ہیبت کا شکار ہو جاتا ہے آپ اندازہ لگائیں کہ وہ کردار خود کس قدر عظمت کا حامل تھا۔۔اسلیے میں انتہائی معذرت کے ساتھ ایک بار پھر کہونگی کہ آپ بھلے خود کو شاہ رخ ۔سلمان یا فواد خان سمجھ لیں لیکن ارتغرل غازی جیسے کرداروں کا نام لینے سے پہلے دس بار نہ سہی ایک بار  ضرور سوچیں کہ آخر آپ کس حوالے سے انکے برابر ہیں۔۔۔۔
اخر میں صرف اتنا کہونگی کہ انسان کی شناخت اسکے اپنے اخلاق و کردار سے ہوتی ہے ۔اپکی ذہنیت آپکا رہن سہن آپکا میل جول معاشرے میں آپکے مقام کا تعین کرتا ہے ۔۔اسلیے کسی بھی کردار کا کاپی پیسٹ بننے سے بہتر ہے کہ آپ اپنے اندر کی شخص کو پہچان لیں اپنی برائیوں پر قابو پائیں اور اچھائیوں کو وسعت دیں۔ اپنی شخصیت بنائیں۔۔دوسری اور آخری بات ترکش زبان میں ڈرل کا مطلب دوبارہ زندہ کرنے کے ہی
Facebook Comments