شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ریاست کے اصل اثاثے

ریاست کے اصل اثاثے

ریاست صرف خطہ زمین کو نہیں کہتے۔وہاں پہ بسنے والوں کو کہتے ہیں۔مکان کی خوبصورتی مکینوں سے ہوتی ہے۔ریاست ایک تصور ایک خیال ایک حقیقت کا نام ہے۔ریاست کی طاقت کامیابی اور مضبوطی کو ماپنے  کے لیے اس کے باشندوں کے معیار زندگی خوشحالی اور اطمنان کو ناپا جاتا ہے۔ریاست تب خوشحال کہلاتی ہے جب یہاں کے باشندے اس کے فیوض و برکات سے مستفیض رہیں۔۔۔لازم ہے اس کے باشندوں میں ہر ایک کی زندگی کا اپنا معیار ہوتا ہے۔ایک مستری ترکھان موچی کے معیار زندگی کو ایک اعلی أفیسر اور ہنرور کی زندگی سے ناپا نہیں جاسکتا۔یہ ان کی صلاحیتوں میں فرق کا مسئلہ ہے۔لیکن کامیاب ریاست کی مثال یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے مقام پہ مطمین رہے۔ریاست کے حکمران کے نزدیک ہر کسی کی اپنی اہمیت ہو۔حکمران کو یقین ہو کہ ریاست کے اصل معمار وہی ترکھان مستری ڈرائیور موچی زمیندار سپاہی استاد وغیرہ ہیں جن کی محنت اور دم قدم سے ریاست زندہ رہتی ہے۔ایک پولیس مین قانون کی پاسداری نہ کرے تو ریاست لاقانونیت کا شکار ہوتی ہے۔ایک استاد نونہالوں کی تربیت نہ کرے تو قوم ان پڑھ بن جاتی ہے۔ایک محافظ اگر سرحدوں کی حفاظت نہ کرے تو دشمن کو ریاست توڑنے کا موقع ملتا ہے۔لہذا جتنی وفا محبت اور غیرت ایک جنرل کی ریاست کے ساتھ ہوتی ہے۔اتنی ہی محبت ایک سپاہی کو ہونی چاہیے۔تب جا کے ریاست ناقابل تسخیر ہوتی ہے کیونکہ سرفروشوں کے گڑھ کو تسخیر کرنا اسان نہیں ہوتا۔کامیاب ریاستوں کی دنیا میں کئی ایسی مثالیں ہیں اسلامی ریاست کی مثال سب سے اعلی و ارفع ہے کہ اس کا ہر فرد جانثار ہونے کے ساتھ ساتھ فرض شناس صادق اور امین ہوتا ہے۔
Facebook Comments