شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / سنو لیپرڈ فاونڈیشن کے زیر انتظام تنظیم ویلج کنزرویشن کمیٹی زوندرانگرام کوعلاقے میں کام کرنے کا موقع دیکر شر پسندوں اور شکاری مافیا کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔عمائدین کی پریس کانفرنس

سنو لیپرڈ فاونڈیشن کے زیر انتظام تنظیم ویلج کنزرویشن کمیٹی زوندرانگرام کوعلاقے میں کام کرنے کا موقع دیکر شر پسندوں اور شکاری مافیا کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔عمائدین کی پریس کانفرنس

چترال(محکم الدین)ویلج کنزرویشن کمیٹی زوندرانگرام تریچ نے انتہائی تشویش کا اظہارکرتے  ہوئے کہا ہے کہ معروف چراگاہ روشگول میں شکاری مافیا کی طرف سے ماحولیاتی دہشت گردی کی وجہ سے آئی بیکس اورسنولیپرڈ شدید خطرات سے دوچارہیں۔ اورعلاقے میں شکاریوں کا گروپ اس علاقے کے تحفظ کی راہ میں مسلسل رکاوٹ بن رہا ہے۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وی سی سی  صدرپروفیسررحمت کریم بیگ، ایگزیکٹیو ممبر مفتی عبدالغنی چمن، معروف سوشل ورکر گمبوری شاہ، پروفیسرظہورالحق دانش اورغلام اسحاق نے کہا کہ تریچ ایک پسماندہ اوردورافتادہ ائریا ہے جہاں حکومت کی طرف سے ترقیاتی منصوبے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لئے مختلف غیرسرکاری ادارے علاقے کی ترقی کیلئے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں سنو لیپرڈ فاونڈیشن نے علاقے کے جنگلات اورجنگلی حیات کے تحفظ کیلئے کام کا آغاز کیا ہے۔ اس ادارے کے زیر نگرانی تورکہو میں تین منصوبے زیرتعمیر ہیں لیکن بد قسمتی سے تریچ میں چند ماحول دشمن اورشرپسند عناصر علاقے کے لوگوں میں افواہیں پھیلاکر ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ  تمام غیر سرکاری ادارے حکومتی این او سی کے تحت عوام کی بہبود کیلئے کام کرتے ہیں۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ شرپسند عناصر علاقے کے مفاد کے کام میں رخنہ ڈالنے کے باوجود انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہاہے۔ جبکہ ضلعی انتظامیہ کو حکومتی رٹ قائم کرنی چائیے۔ انہوں نے  مطالبہ کیا کہ  علاقے کے ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے ان عناصر کو لگام دے کر سنو لیپرڈ فاونڈیشن کے زیر انتظام جنگلی حیات خصوصا آئی بیکس اور برفانی چیتے کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظیم ویلج کنزرویشن کمیٹی کوعلاقے میں کام کرنے کا موقع دیا جائے اور شر پسندوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے جو ماحولیاتی دہشت گردی کے تحت علاقے میں نایاب جنگلی حیات کا شکار کرکے انہیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔
Facebook Comments