شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / کارٹون ایریا Utopia#4 ۔۔۔۔تحریر : میر سیما امان

کارٹون ایریا Utopia#4 ۔۔۔۔تحریر : میر سیما امان

انسان جب شعور کی منزلیں طے کرتا ہے تو الیکٹرانک میڈیا میں جس پہلی چیز سے متاثر ہوتا ہے وہ کارٹون نیٹورک ہے مجھے یاد ہے کہ عمر کے اس حسین دور میں کارٹون نیٹ ورک کے طلسم کدہ جال میں میں بھی بری طرح پھنسی تھی۔ایک بار تو حد ہی ہوگیا۔چونکہ اذل سے دوسروں کے ہاتھوں بے وقوف بنتے رہنے کی بیماری مجھ سے جڑ ی ہے تو ہوا یوں کہ پشاور جاتے ہوئے مجھے یقین دلایا گیا کہ اسلام آباد کے قریب ایک علاقہ ہے جہاں واقعی ٹام اینڈ جیری رہتے ہیں۔پورا سفر اس خیالی پلاؤ میں گزرا کہ کب اس حسین وادی میں قدم رکھنے کا شرف حاصل ہوگا بحرحال پشاور پہنچ کر کہیں دن تک پہلے تو دبے الفاظ میں فرمائش کرتی رہی کہ مجھے وہاں لے جایا جائے۔ گھر والوں نے آرام سے کہیں بار سمجھایا کہ ایسی کوئی جگہ نہیں ہے۔رفتہ رفتہ فرمائش احتجاج بن گئی جو آ خر کار ذبردست ڈانٹ اور مار کھانے کے بعد ختم ہوگئی۔مجھے آ ج بھی وہ دن یاد ہے دنیا میں اپنی پسندیدہ ترین چیز کے نہ ہونے کا تصور ہی کسقدر ہولناک ہے ۔۔میں اس کیفیت کو بیان نہیں کرسکتی۔۔اخرکار دل کو یہ ماننا پڑے گیا کہ نہ تو دنیا میں ایسی کوئی جگہ ہے نہ مخلوق یہ سب مصنوعی ہے۔۔ اسکے بعد کارٹون تو کیا میں نے ٹی وی تک دیکھنا ہی چھوڑدیا۔۔پھر گردش ایام میں ایسے گم ہوئی کہ کبھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کی مہلت ہی نہ ملی مگر آ ج۔۔۔۔۔اج بڑے عرصے بعد مجھے وہ دن اور ساری کہانی یاد آگئی اور اپنی اس انہونی خواہش پر ہنسی نہیں آ ئی بلکہ حیرت ہوئی کہ خواہشیں کبھی اس طرح بھی پوری ہوا کرتی ہیں۔ کون سوچتا ہے۔۔۔میری کارٹون ایریا میں جانے کی خواہش پوری ہوگئی تھی لیکن مجھے اسکا شعور بہت دیر سے ملا۔۔جن لوگوں نے اس وقت مجھے یقین دلایا تھا کہ دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں میں آ ج انھیں بتانا چاہتی ہوں کہ قسم خدا کی دنیا ہی تو وہ جگہ ہے جہاں کارٹون بستے ہیں ۔۔مصنوعی مخلوق ہاہ۔۔ہم انسان تھے ہی کب ؟؟ مجھے حیرت ہے کہ ہم نے خود کو انسان سمجھنے کی غلطی کیسے کرلی؟؟ ہم دوسروں کے اشاروں پر ناچنے والے دوسروں کی خواہشات کے مطابق بولنے والے دوسروں کی پسند نا پسند پر جینے والے ۔۔ہماری تو سوچ پر بھی دوسروں کی حکمرانی ہے۔ہماری کوئی حرکت کوئی کام کوئی خدمت ہماری اپنی ضمیر کی تسکین کے لیے نہیں ہمارے تو ذہن بھی کرائے کے مکان جیسے ہیں جن پر دوسروں کی مرضی چلتی ہے۔۔ آ پ نے کبھی سرکس میں پتلا تماشہ دیکھا ہوگا ہم انسانوں کے نام پر وہی پتلے ہیں جنکے ڈور کسی اور کے ہاتھوں میں ہیں۔۔۔اپنی ہر حرکت ہر عمل کے لیے اپنے ہی جیسے لوگوں کے آگے جواب دہ قوم ۔۔ایک ایسی مخلوق جو خود پر کوئی خدا مسلط ہی نہیں سمجھتا جسکا خدا بھی اسی کا بنایا گیا معاشرہ ہے ۔۔مجھے حیرت ہے ہم خود کو انسان کیسے سمجھ سکتے ہیں؟؟ پچھلے دنوں چائنہ بھگوان کا بڑا مذاق سنا ۔۔مجھے آج خیال آرہا ہے کہ ہندو قوم جہنم میں جائے گی تو انکے پاس تو بہانہ بھی خوب ہے ہے کہ انکا بھگوان نقلی نکلا ۔۔مال کبھی جاپان سے آتا تھا کبھی چائنہ سے ۔۔وہ تو اصلی مال خریدنے میں دھوکہ کھاگئے ۔۔لیکن جب ہم مسلمان جہنم کے کنارے کھڑے ہونگے تو ہمارے پاس تو اپنی عزت بچانے کے لیے نقلی بھگوان جیسا آ پشن بھی نہیں ہوگا ۔۔۔افسوس۔۔۔۔ اسلیے مجھے اپنے تخیل سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ دیکھو ہمارے نظام نے ہمیں کچھ نہیں دیا ۔اس انتشار کو دیکھو۔۔اس منافقت کو دیکھو۔اپنے اس بھائی کو دیکھو جسکی میعار ذندگی اپنے لیے اور ہے تمھارے لیے اور۔۔اپنے اس ہمسائے کو دیکھو جو خود تو ہمسائے ہونے کا حق مانگتا ہے لکین تمھارے حقوق کا نہیں سوچتا۔سفر میں اس مسافر کو دیکھو جو اپنی تفریح کے لیے تمھیں بے آرام کرتا ہے ۔دسترخوان میں بیٹھے اس مسلمان کو دیکھو جو بات بات پہ احادیث نبوی سناتا ہے لیکن اپنی زبان کھانے میں نقص نکالنے سے بچا نہیں پاتا۔۔ان حاجیوں کو دیکھو جو حج سے محض حاجی بننے کا فخر لیکر لوٹتے ہیں۔۔ان اولادوں کو دیکھ لو جو باپ کی موت پر وراثت پر لڑتے ہیں۔ دیکھو ہمارے معاشرے میں کتنے صادق اور کتنے آ مین ہیں؟؟؟ ہمارے اس بیکار کے نظام نے ہمیں سوائے مظطرب اور غیر اسودہ زندگیوں کے کچھ نہیں دیا۔۔لیکن ہم پھر بھی اسے چھوڑنے پر تیار نہیں ۔۔ہم اپنی مفادات کے لیے کب تک دین کو تبدیل کرتے رہیں گے حالانکہ اللہ کی سنت تو کبھی تبدیل نہیں ہوتی خود قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ولم تجدا الی سنت اللہ تبدیلا۔۔پھر ہم کون ہیں اپنے اور دوسروں کے لیے الگ الگ دین پیش کرنے والے۔۔۔؟؟میں ایک بار پھر کہونگی اپنے ارد گرد پھیلی منافقت کو دیکھو اگر تمھیں نظر نہیں آتی تو خود کو اسکا حصہ تسلیم کرلو اور نظر آتی ہے تو کیوں تمھیں اس سے گھن نہیں آ تی؟؟؟ کیا ہم۔وہی مخلوق ہیں جسے واقعی اشرف المخلوقات کا درجہ ملا ہے؟؟؟ آ ج عرصے بعد تخیل بچپن کی ایک انہونی خواہش سے ٹکرایا اور مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی دقت نہیں رہیگو کہ خواہش پوری ہوگئی گو کہ سب ویسا ہی مصنوعی ہے جیسا بچپن میں دکھتا تھا مگر کیا ستم ہے کہ اب اس فینٹسی ورلڈ میں کوئی طلسم باقی نہیں رہا اور شعور نے یہ بھی تسلیم کرلیا کہ بعض اوقات کسی خواہش کا پورا ہونا بھی کسقدر تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔۔۔۔
Facebook Comments
error: Content is protected !!