شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / اب تعلیمی ادارے بھی کُھلنے چاہیں

اب تعلیمی ادارے بھی کُھلنے چاہیں

 

کوڈ نائنٹین کی وجہ سے دنیا بھر میں نظامِ زندگی بری طرح مفلوج و مجروح ہے۔دریں حالات دوسرے شعبہائے زندگی کی طرح تعلیم کا شعبہ بھی دنیا بھر میں منجمد پڑا ہوا ہے گو کہ بعض ترقی یافتہ ممالک نے ایس او پیز کے ساتھ اپنے تعلیمی ادارے کھولنے میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں تعلیمی ادارے کوڈ نائنٹین کے خاتمے کے انتظار میں اب بھی بند پڑے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے بچوں کے تعلیمی سال کے ضائع ہونے کا خدشہ و خطرہ تقریباً یقین میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے ۔         کرونا کے پاکستان پہنچنے کے بعد مارچ میں جب تعلیمی اداروں کی غیر معینہ مدت تک بندش کا فیصلہ سامنے آیا تھا تو اعلیٰ حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ حالات بہتر ہونے کی صورت میں جون تک نہ صرف تعلیمی ادارے کُھل جائیں گے بلکہ ان میں پہلے کی طرح پڑھائی کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔ پھر ہوا یوں کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق وبائی حالات بہتری کی بجائے بدتری کی طرف ہی بڑھتے چلے گئے۔ نتیجتاً تعلیمی ادارے بدستور بند ہی رہے۔

 

آٹھ جولائی کو  وفاقی وزیر تعلیم کی زیرِ صدارت تعلیم کے بین الصوبائی وزراء کے اجلاس ہوا۔ اجلاس کا ایجنڈا ایس او پیز کی تنفیذ کے ساتھ تعلیمی اداروں میں پڑھائی کا آغاز  تھا۔ اجلاس کے بطن سے جب یہ مژدہ برآمد ہوکر سوشل میڈیا کی زینت بنا کہ ستمبر سے تعلیمی اداروں کی رونقیں بحال ہو جائیں گی تو اساتذہ برادری بہت خوش ہوئی۔ لیکن پھر ترمیم شدہ خبر یہ سامنے آئی کہ پڑھائی کا آغاز حالات کی بہتری سے مشروط ہے اس خبر کی وجہ سے افسردگی نے پھر ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہمارے افسردہ ہونے سے کیا ہوتا ہے۔ہوتا وہی جو منظورِ سرکار ہوتا ہے۔ ہم چھوٹے دماغ والے بڑے بڑے دماغ والے پالیسی سازوں کے فیصلوں پر انگشت نمائی کر بھی کیسے سکتے ہیں۔ اگر گستاخی قابلِ برداشت سمجھی جائے تو ہم کوتاہ بینوں کو قوم کی بہتری و بھلائی اسی میں نظر آتی ہے کہ ایس او پیز کے ساتھ فوراً سے پیشتر تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں۔

 

ملک کے باقی حصوں میں واللہ اعلم کیا ہو رہا، معلوم نہیں ہے۔ اپنے چترال میں تو حالت یہ ہے کہ جن بچوں کو ہم سکول میں لرننگ کے لیے ایک کمرے میں ساتھ بیٹھانے سے ہچکچا رہے ہیں وہی بچے گلی کوچوں اور چوک بازاروں میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ، کندھے سے کندھا ملائے گھومتے پھرتے، اور میدانوں میں کھیلتے کُودتے نظر آ رہے ہیں۔ شادی کی کوئی تقریب ایسی نہیں گذرتی جس میں بچے ہجوم در ہجوم باجماعت شغل میلہ نہ کرتے ہوں۔ وہ کرونا جو گلی کوچوں، کھیل کے میدانوں اور شادی کی تقریبات میں بچوں کے کان مروڑ کر تنگ نہیں کرتا، بھلا تعلیم گاہوں میں آکر بچوں بچیوں کو کیوں ڈسٹرب کرے گا؟؟

 

کوڈ نائنٹین کو تعلیمی اداروں سے اللہ واسطے کا بیر ہے کیا؟؟ سوال تو ہے ناں، سولہ آنے کا نہ سہی، دو آنے کا سہی۔بالخصوص چترال کے بارے میں مزید تشویش اس لیے پیدا ہو رہی ہے کہ یہاں تین مہینے کی چھٹیاں سردی کے موسم میں پڑتی ہیں۔ جن کا دورانیہ دسمبر کے تیسرے عشرے سے شروع ہو کر مارچ تک ہوتا ہے۔ چترال سمیت صوبے کے جن علاقوں میں سردی کی چھٹیاں (سرمائی تعطیلات) ڈھائی تین مہینے کی  ہوتی ہیں اُن میں تعلیمی سال ختم ہونے میں محض چار مہینے رہ گئے۔ ایک لحاظ سے (مارچ کے چند دن مستثنیٰ کر کے) چترال میں بیس دسمبر سے تعلیمی ادارے بند ہیں۔ گویا کہ صوبے کے بیشتر حصوں میں بندش کے چار جبکہ چترال سمیت چند اور ضلعوں میں سات مہینے ہو گئے۔    پندرہ ستمبر سے اگر تعلیمی ادارے کُھل بھی جائیں تو کورسز کی تکمیل کے لیے اساتذہ کے پاس صرف تین مہینے ہوں گے۔ ان تین مہینوں میں بچوں کو سبک رفتار گھوڑے جیسا تیز دوڑانے سے بھی نصاب کی تکمیل مشکل ہو گی۔ خدا نخواستہ اگر معاملہ ستمبر سے بھی اوپر چلا جائے تو پھر یہ کنفرم ہو جائے گا کہ بچوں کا ایک پورا تعلیمی سال کرونا دیکھتے ہی دیکھتے ہڑپ کر گیا۔

 

ہماری نمائندہ اساتذہ تنظیمیں بھی اس بابت اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔  ان تنظیموں کو بھی سوچنا چاہیے کہ جہاں سب کچھ رُوٹین کے مطابق چل پڑا ہے وہاں صرف سکولوں کے معاملے میں اتنی حساسیت کیوں دکھائی جا رہی؟  اساتذہ تنظیموں کو اربابِ بست و کشاد کے ساتھ مل بیٹھ کر انہیں سکول کھولنے پر آمادہ کرنا چاہیے۔

 

چترال کی پولیٹکل لیڈر شپ کو اپنی ڈھیڑ اینٹ کی سیاست سے فرصت ملتی ہے اور نہ ہی ایسے مفید کام اِن کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ سو اگر وہ اس مسئلے پر توجہ نہ دیں تو چترال کے تعلیم دوست حلقوں کو آگے بڑھ کر کم ازکم اگست سے ایس او پیز کے ساتھ تعلیمی ادارے کُھلوانے کی کوئی سبیل نکالنی چاہیے۔ تعلیم کے بہی خواہ اس مسئلے پر سرجوڑ کر قابلِ عمل تجویز پیش کر کے اربابِ حل و عقد کو چترال کے تعلیمی ادارے کھولنے پر قائل کر سکتے ہیں۔

 

اب چترالی قوم کا مقدمہ صوبائی سیکرٹریٹ میں آگے

Facebook Comments
error: Content is protected !!