شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / مختلف ٹی ایم ایز کے زیر انتظام ٹینڈر شدہ منصوبوں پر جلد کام شروع کیا جائے۔۔عوامی حلقے

مختلف ٹی ایم ایز کے زیر انتظام ٹینڈر شدہ منصوبوں پر جلد کام شروع کیا جائے۔۔عوامی حلقے

چترال ( محکم الدین ) لوئر چترال اور اپر چترال کے عوامی حلقوں نے مختلف ٹی ایم ایز کے زیر انتظام ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈر کے باوجود کام شروع نہ ہونے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان ، وزیر بلدیات اور ایم پی ایز چترال سے پُر زور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ ان ترقیاتی منصوبوں پر بروقت کا م شروع کرکے موسم تبدیل ہونے سے پہلے پہلے اُنہیں مکمل کیا جائے ۔ اور عوام میں پائی جانے والی تشویش دور کی جائے ۔ چترال شہر ، دروش ، مستوج ، موڑکہو اور بونی سے تعلق رکھنے والے افراد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ متذکرہ مقامات کے ٹی ایم ایز کے انڈر ترقیاتی منصوبے جن میں روڈز ، پُل ،پاءپ لائن ، گلیوں کی پختگی ، سولرائزئشن و دیگر دیہی کام ٹینڈر ہو گئے تھے ۔ اور مقامی لوگوں کو اُمید تھی ۔ کہ یہ منصوبے ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کئے جائیں گے ۔ اور عوام کو درپیش مشکلات حل ہو جائیں گے ۔ لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ کہ ابھی تک ان ٹینڈر شدہ ترقیاتی سکیموں پر کام شروع نہیں کیا گیا ۔ اور اب جب مذکورہ منصوبوں کی تعمیر میں تاخیر سے متعلق دریافت کیا گیا ، تو معلوم ہوا ، کہ جن ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈر ہو چکے ہیں ۔ اُن کیلئے فنڈ ہی موجود نہیں ہے ۔ اور یہ کام میں تاخیر کی بنیادی وجہ ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف افسوسناک ہے ، بلکہ قابل مذمت ہے ۔ اگر فنڈ ہی دستیاب نہیں تھا ۔ تو ٹینڈر کیونکر کیا گیا ۔ اور لوگوں کو بیوقوف بنانے کی مذموم کوشش کیوں کی گئی ۔ عوامی حلقوں نے کہا ۔ کہ چترال سیزنل ورک والا ضلع ہے ۔ یہاں گرمیوں کے تین چار مہینے میں ہی کام بہتر طور پر ہو سکتے ہیں ۔ جس کے بعد سردیوں میں معیار کے مطابق کام ہونا ممکن نہیں ۔ اس لئے جاری سیزن میں بلا تاخیر ترقیاتی منصو بے شروع کرنا انتہائی ضروری ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ایک طرف چترال کو ملنے والے ترقیاتی فنڈ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے ۔ اور دوسری طرف اُسی فنڈ میں مسلسل تاخیری حربے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے پُر زور مطالبہ کیا ۔ کہ فوری طور پر ٹینڈر شدہ منصوبوں کیلئے فنڈ مہیا کرکے اُنہیں مکمل کیا جائے ، بصورت دیگر عوام احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے ۔

Facebook Comments