شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / شندور مَس جنالی میں دو روزہ پولومقابلوں کا انعقاد (غاری نیسکو غاڑ)

شندور مَس جنالی میں دو روزہ پولومقابلوں کا انعقاد (غاری نیسکو غاڑ)

شندور (نمائندہ چترال آفیئرز ) صدر چترال پولو ایسوسی ایشن شہزادہ سکندرالملک کے زیر سربراہی لاسپور مستوج چوئینج سنوغر اور بونی کے پولو کے کھلاڑیوں نے شندور میں چھتراری ثقافت کو برقرار رکھتے ہوۓ شندور میں”غاری نیسیکو غار“ کا آغاز کیا۔

 

اس شاندار اور دوستانہ میچ میں لاسپور مستوج سنوغر چوئینج کے نوجوان کھلاڑیوں سمیت پولو کے منجھے ہوۓ کھلاڑی بھی شریک ہوۓ۔جس میں شھزادہ سکندر المک مستوج ،راجا فضل الخالق چوئینج ،سردار احمد خان یفتالی لاسپور ،آصف اقبال ، اجمل قباد عرف طوفان مستوج ،خدابخش بونی جبکہ سنوغر مستوج لاسپور جوینج کے نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ پیش کیا۔

 

اس موقع پر ایک ٹیم کی قیادت صدر پولو ایسوسی چھترار شھزادہ سکندر المک کر رہے تھے دوسرے کی سربراہی راجا فضل الخاق کر رہے تھے۔اور ایک ٹیم قیادت سردار احمد خان یفتالی کر رہے تھے۔

 

اس دو روزہ میچ کے اختتام پر صدر چھترار پولو ایسوسی ایشن شھزادہ سکندرالملک نے نےاپنے تقریر میں تمام نوجوان کھلاڑیوں جو اپنے ذاتی خرچے پر شندور آ کر اس ایونٹ کو کامیاب بنانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

 

انھوں نے کہا اس مہنگائی میں گھوڑا پالنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔جبکہ حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے برابر ہے۔پھر چھترار کے لوگوں اور گلگت بلتستان کے لوگوں کا پوپو کے ساتھ جنون کی حد تک دلچسپی ہے۔

 

اس دوستانہ پولو کے شاندار میچ کا مقصد چھترار میں فری اسٹائل پولو کو فروع دینا اور ساتھ چھترار کے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جو اپنے مدد آپ کے اس ایونٹ کو کامیاب بناۓ۔

 

غاری نیسکو غاڑ شندور مس جنالی

 

شندور ہمیشہ سے سیاحوں کے لئے جنت کا مقام رکھتا آیا ہے۔ برف سے ڈھکی سفید چادر اوڑھے پہاڑ حد نگاہ تک پہلے سرسبز میدان اور سحر انگیز وسیع جھیل زمین پہ جنت کے ہونے کی گواہی دیتے ہیں کہ دیکھنے والا دھنگ رہ جاتا ہے یقینن یہ قدرت کا شاہکار ہے۔ شندور سے گزرنے والے مسافروں کو حسن شندور اتنی متاثر کرتی ہے کہ یہاں رات گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ شندور جتنا دن کے وقت قابل دید ہے اتنی ہی دلکش منظر رات کے ہوتے ہیں۔

 

جولائی 1935 کی ایک رات کو برطانوی حکومت کے ایڈمنسٹریٹر میجر کوب شندور میں نیند سے جاگتے ہیں اور اپنی ٹینٹ سے باہر نکلتے ہی چاندنی رات کی منظر انکے دل میں لطیف کیفیت پیدا کر دیتا ہے نیلا آسمان ٹمٹماتے ستارے، پھولوں پر اجر نکھار اور سبزے کی خوبصورتی میں مزید چار چاند لگاتا، چمکتا ہوا جھیل کو دیکھ کرمنظر اور دلربا ہو جاتا ہے۔ یہ سب مصور کائنات کی طرف سے ایک بہترین تخفہ ہے ہمارے لئے۔

 

حسن شندور کی رعنائیوں سے پتھر کو زبان مل جائے شاعروں پر شعروں کا نزول ہو جاۓ وہاں میجر کوب بھی اس سحر سے نہ بچ سکے عالم وجد میں صبح ہوگئی۔ چونکہ میجر کوب خود بھی پولو کے دلدادہ، شوقین تھے اگلے صبح رات کو چاند کی روشنی میں شندور کے کھلے میدان میں پولو کھلنے کی شوق ظاہر کی اور رات شرمندہ تعبیر بھی ہوگئی۔ اسطرح شندور کے یہ ہرے بھرے میدان بادشاہوں کے کھیل اور کھیلوں کے بادشاہ پولو کو ہمیشہ کے لئے اپنی آغوش میں سما چکی تھی۔ وہاں سے پھر شندور میں فری اسٹائل پولو کا راوج قائم ہوئی۔ اسکے بعد وقتاً فوقتاً چترال اور گلگت بلتستان کے درمیان #شرتیغاڑ مقابلہ ہوتا رہا ہے جسمین جیتنے والے ٹیم کو ہارنے والی ٹیم دمبہ پیش کرتا جو ایک رواج بھی ہیں دونوں طرف۔

 

سن 1985 میں اس وقت کے صدر جرنل ضیاء الحق نے باقاعدہ اسے فسٹویل کا درجہ دیکر ہر سال منانے کا فیصلہ کیا۔ آہستہ آہستہ شندورپولوفیسٹیول پوری دنیا میں مشہور مقبول ہوگیا۔ ہر سال 7 سے 9 جولائی کو منعقد ہوتا ہے۔ زیر نظر تصویر اسی مسجنالی کی ہے جہاں میجر کوب پہلی دفعہ شندور کی تاریخ میں پولو کھیلا تھا۔ “مس” کھورا زبان میں چاند کو کہتے ہیں اور “جنالی”پولوگراونڈ کو کہتے ہیں۔ موجودہ شندور پولو گراؤنڈ جہاں ہر سال پولو میلہ لگتا ہے وہ الگ ہے اسے محوران پاڑ کہا جاتا ہے۔

 

قابل ذکر بات یہ ہے کہ شندور اسٹڈیم مکمل طور پر قدرتی ہے۔چاروں اطراف قدرتی طور پر بنے ٹیلے بیچ میں سبز چادرر کی طرح بچھا ہوا قدرتی پولو گراؤنڈ سیاحوں کو دیوانہ بنا دیتا ہے۔

Facebook Comments