شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پہلا چترال اوپن شطرنج ٹورنمنٹ کا انعقاد۔ اس ٹورنمنٹ میں ملک بھر سے 52 کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں جو قومی اور بین الاقومی سطح پر شطرنج کے کھیل میں نمایاں مقام رکھتے ہیں

پہلا چترال اوپن شطرنج ٹورنمنٹ کا انعقاد۔ اس ٹورنمنٹ میں ملک بھر سے 52 کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں جو قومی اور بین الاقومی سطح پر شطرنج کے کھیل میں نمایاں مقام رکھتے ہیں

پہلا چترال اوپن شطرنج ٹورنمنٹ کا انعقاد۔ اس ٹورنمنٹ میں ملک بھر سے 52  کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں جو قومی اور بین الاقومی سطح پر شطرنج کے کھیل میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

چترال(گل حماد فاروقی) چترال میں پہلی بار اوپن شطرنج ٹورنمنٹ کا انعقاد ہوا جس کا اہتمام چترال شطرنج کلب اور صوابی شطرنج کلب کے اشتراک سے ہوا ہے۔ افتتاحی تقریب میں رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت ڈپٹی کمشنر چترال نے کی۔

بادشاہوں کا کھیل شطرنج  سویس سسٹم کے تحت چترال میں نو رونڈ پر مشتمل ہوگا۔ اس ٹورنمنٹ میں ملک بھر سے 52 کھلاڑی حصہ لے رہے  ہیں  جو بین الاقوامی سطح پر کھیل چکے ہیں۔ اس ٹورنمنٹ میں چار رونڈ پہلے دن مکمل ہوگا جبکہ احتتامی تقریبات تک پانچ روڈ مزید مکمل کئے جائیں گے۔ سردار گوہر کے مطابق   جب فائنل روڈ کھیلا جائے گا تو اس میں چیمپین کا اعلان کیا جائے گا کہ اس ٹورنمنٹ کا فاتح کون ہوگا۔

ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر اخونزادہ عبد الرحمت نے کہا کہ ضلعی سپورٹس دفتر ایسے تمام کھیل کود کو ترویج دینے کیلئے کوشاں ہے جو نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچاکر مثبت سرگرمیوں میں مشعول رکھتا ہے۔ اس ٹورنمنٹ میں حصہ لینے والے ایک مقامی کھلاڑی عظیم الدین کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے پچپن سالوں سے شطرنج کھیل رہا ہے اور وہ نہ صرف خود یہ بادشاہوں  کا کھیل کھیلتا ہے بلکہ اس  کی اہلیہ اور بیٹے اور بیٹیاں بھی آپس میں مل بیٹھ کر شطرنج کھیلتے ہیں جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کو ہمارا آپس کا یہ کھیل عجیب لگتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چترال میں ٹیلنٹ بہت ہے مگر اس کھیل کو ابھی تک حکومت کی سرپرستی حاصل نہیں ہے ہم نے چترال میں کرائے کا ایک کمرہ پکڑا ہوا ہے اور اس میں بیٹھ کر شطرنج  کھیلتے ہیں۔ ن

اس ٹورنمنٹ میں پنجاب سے تعلق رکھنے والا  ایک ایسا ضعیف العمر کھلاڑی بھی ہے جن کا عمر 82 سال ہے اور وہ اتنی دور سے اس لئے آیا کہ چترال کے نوجوانوں کا حوصلہ افزائی کرسکے اور ان کو اس بادشاہوں کی کھیل کی طرف راغب کرے۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!