شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / واں یوم آزادی اور صوبہ بلوچستان۔۔۔۔ تحریر۔۔میر سیما امان

واں یوم آزادی اور صوبہ بلوچستان۔۔۔۔ تحریر۔۔میر سیما امان

واں یوم آزادی اور صوبہ بلوچستان۔۔۔۔ تحریر۔۔میر سیما امان

 

 

 

اگست کو پورے ملک نے ہمیشہ کیطرح اپنی آزادی کا تریترواں سال منایا لیکن اسی  آزاد مملکت کے اس حصے کا کیا بنے گا جسکی ایک کڑوڑ کی ابادی آج بھی محکومیت او محرومی کی ذندگی بسر کرنے پر مجبور ہے ۔۔صوبہ بلوچستان جو کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو محل و وقوع کے لحاظ سے بھی اہم ترین ہے اور قدرتی وسائل سے مالا

 

مال ہے لیکن افسوس کہ مالی وسائل سے مالہ مال یہ صوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا کا غریب اور پسماندہ علاقہ ہے۔اس صوبے کی ایک کڑوڑ عوام کی بد قسمتی ثابت کرنے کے لیے تو یہ رپورٹ ہی کافی ہے۔اپ بلوچستان کی بد حالی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آج بھی وہاں تعلیم کا شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔بات روزگار کی ہو تو ہر دس میں سے سات لوگ بے روزگار ہیں۔پڑھے لکھے نوجوان کی تعداد گنتیوں میں ہے اور انھیں  بھی سرکاری عہدوں

 

سے محرومی  کا سامنا ہے ۔ صوبے کے اندر بدامنی کی حالات یہ ہیں کہ آج بھی وہاں شیعہ سنی فسادات حتی کہ پختون اور بلوچ کی ضد عروج پر ہیں۔علاقے کے سرداروں اور عوام کے درمیان دوریاں بتدریج کم ہونے کے بجائے آج بھی  انتہا پر ہیں۔۔تو دوسری طرف دہشت گردی  عوام کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیتی۔۔  آئے روز کے اغوا گمشدگیوں اور سر عام  منشیات فروشی کی تو ہم بات ہی نہیں کرتے کہ وہاں کی قوم ان چیزوں کی عادی ہوچکی ہے۔علاقے کا کوئی دلیر جوان کوئی صحافی کوئی دلیر لیڈر آگے آئے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے تو اس اواذ کو ہمشہ کے لیے دبا دیا جاتا ہے۔۔ یہ تو صوبے کے اندرونی صورتحال ہے وفاق کا صوبے کیساتھ کیا رویہ ہے اسکا اندازہ آپ صوبے کی تعلیمی معیار ،صحت اور روزگار کے مسائل سے ہی بخوبی لگاسکتے ہیں۔۔ حکومت صوبے میں تعلیم کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے ۔۔صوبے میں کتنے کالج اور یونیورسٹیاں ہیں ؟؟ کیا اعلی تعلیمی میعار کے کالج یونیورسٹی یا سکا لرشپس پر بلوچستان کی عوام کا کوئی حق نہیں ؟؟؟؟ کیا وجہ ہے کہ اس معدنی ذخائر سے مالا مال صوبے کو کوئی قابل ذکر ترقیاتی فنڈز نہیں دیے جاتے؟؟؟ کیا وجہ ہے کہ ملک کی تمام سرکاری ملازمتوں میں بلوچ جوانوں کا حق نہ ہونے کے برابر ہے۔۔؟ کیا وجہہ ہے کہ بلوچ جوان جب اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو انھیں غدار کہ کر چپ کروایا جاتا ہے ۔۔۔۔اور تو اور بلوچستان میں پیدا ہونے

 

والے گیس جس سے ملک کا آدھے سے ذیادہ ابادی مستفید ہوتا ہو خود بلوچستان کا ایک بڑا حصہ گیس کی سہولت سے آج بھی محروم ہے ۔۔کیوں ؟؟ سوچنے کی بات ہے ایک ایسا صوبہ جو ملک کی ساٹھ فیصد سے زائد کوئلے کی ضرورت پوری کرتا ہو ۔جو  اونیکس جیسے پتھر کی پیداوار دیتا ہے جو زیر زمین لاکھوں ٹن کا تانبا رکھتا ہو ۔ایک ایسا صوبہ جو دوسروں کو روزگار دینے کا سبب ہو جو ملک کو مالی استحکام دینے کا سبب ہو وہ

 

عالمی سطح پر دنیا کا غریب ترین علاقہ کہلائے تو یہ تھپڑ بلوچستان کے نہیں وفاق کے منہ پر لگنی چاہیے ۔۔۔ بلوچستان کی پسماندگی جتنا قصور وفاق کا ہے اتنا ہی وہاں کے سرداروں اور اپنی مفادات کے آگے بکنے والی لیڈرشپ کا ہے۔کسقدر افسوس کی بات ہے کہ تریتر سالوں میں ایک بھی ایسی حکومت نہیں آ ئی جو یہ جان سکتی کہ یہ صوبہ محض مدنی ذخائر کا صوبہ نہیں بلکہ یہاں جیتی جاگتی قوم بھی بستی ہے جسکا حق ہے کہ وہ ذندگی کی تمام بنیادی سہولیات حاصل کریں ۔ تریتر سالوں سے جس قوم  کو تعلیم روزگار اور صحت کی سہولیات تک میسر نہ ہو وہ ملک کی آزادی کا جشن کس طرح مناتا ہوگا ۔۔ آج یوم آزادی کے موقع پر ہم صرف اتنا کہ سکتے ہیں کہ سالوں سے سرداری نظام اور بد ترین لیڈرشپ کا شکار بلوچ عوام جو  آزاد مملکت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی فلیسطینیوں اور کشمیریوں کی سی زندگی گزارتے آئے ہیں ۔۔ بلوچیوں کا حق ہے کہ وہ آ ئنی طریقے سے اپنی حقوق کا مطالبہ کریں اور حکومت کو چاہیے کہ ان پر توجہ دیں۔ورنہ تاریخ کو قصہ بنگال دہرانے میں ذرا بھی دقت نہ ہوگی ۔۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!