شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / کنزیومرکورٹ چترال کی جانب سے چترال دروش اور بونی میں غیر معیاری،مضر صحت چپس اور کولڈ ڈرنکس کی خریدو فروخت پر پابندی عائد کردی گئی۔

کنزیومرکورٹ چترال کی جانب سے چترال دروش اور بونی میں غیر معیاری،مضر صحت چپس اور کولڈ ڈرنکس کی خریدو فروخت پر پابندی عائد کردی گئی۔

چترال (نمائندہ چترال آفیئرز ) آج کل چترال میں غیر معیاری چیپس اور کولڈ ڈرنکس کی بھرمار ہے ہے جس دوکان جائیں مختلف ناموں سے غیر معیاری اور مضر صحت چپس اور کولڈڈرنکس موجود ہیں۔یہ غیر معیاری چپس اور کولڈ ڈرنکس اور اسپائر اشیاء چترال کے گلی محلوں میں بھی کھلے عام فروخت ہورہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں یہ اشیاء ہمارے بچوں کے لیے کسی ذہر سے کم نہیں جن کی وجہ سے آئے روز بچوں میں طرح طرح کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں لیکن انتظامیہ کا کردار اس حوالے سے مایوس کن رہا جس کے علاوہ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر بھی اپنی ذمہ داریوں سے بے خبر ہے۔غیر معیاری چیپس اور کولڈ ڈرنکس بنانے والی کمپنیوں کو انتظامیہ کی جانب سے این۔او۔سی جاری کیا جاتا اور بعد میں انتظامیہ کی جانب سے دوکانداروں کو غیر معیاری چپس اور کولڈ ڈرنکس رکھنے پر تنگ کرکے جرمانہ بھی کیا جاتا رہا۔ ان غیر معیاری چپس اور کولڈ ڈرنکس نے معیاری چپس اور کولڈ ڈرنکس کی جگہ پکڑ لی تھی جس کی وجہ سے عوام کو خصوصا بچوں کو ناقص اور مضر صحت چپس اور کولڈ درنکس میسر تھی۔اس حوالے سے تجار یونین کے صدر شبیر احمد نے چترال بازار کے دوکانداروں کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اور رفاہ عامہ کی خاطرکنزیومر کورٹ جانے کا فیصلہ کیا اور ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے کنزیومر کوڑٹ چترال سے ان غیر معیاری چپسوں پر پابندی عائد کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

 

تجار یونین کے صدر شبیر احمد نے چترال میں موجود غیر معیاری چپس اور کولڈ ڈرنکس بنانے والی کمپنیوں کے خلاف 15 اگست کو شکایت جمع کی جس پر کنزیومر کورٹ کی جانب سے کمپنی مالکان سے رابطہ کیا گیا مگر ان کمپنیوں مالکان حکومت پاکستان کے کسی منظور شدہ لیبارٹری ٹسٹ رپورٹ وغیر ہ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

 

کیزیومر کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیانئے میں کہا کیا گیا ہے کہ مکمل جانج پڑتال اور لیبارٹری ٹسٹ کے بغیر کوئی بھی غیر معیاری چپس یا کولڈ ڈرنکس چترال لانا ایک جرم عوام دشمنی اور بچوں کی صحت کے ساتھ کھیلوال تصور کیا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ اپر لوئر دونوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں

کہ غیر معیاری ناقص مضر صحت پراڈکٹس بنانے والی کمپنیوں کے اشیاء کی چترال داخلے پر پابندی لگائی جائے۔اور پہلے سے موجود چپس کولڈ ڈرنکس فلفور تلف کیا جائے۔لواری ٹنل میں موجود زمہ دار افراد کو بھی آگاہ کیا جائے کہ ان مضر صحت اشیاء کی مکمل جانج پڑتال میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔دوکاندار حضرات کو بھی آگاہ کیاگیا ہے کہ مضر صحت اشیاء کی خریدو فروخت ترک کرکے صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جائے۔یاد رہے کہ ان غیر معیاری چپسس کی وجہ سے چترال کے غریب دوکانداروں کو روزانہ جرمانہ کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے ایک غریب دوکانداروں کافی نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!