شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے تنصیب کیے گئے اسٹریٹ لائٹس 2018 سے واپڈا کی راہ تک رہے ہیں

سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے تنصیب کیے گئے اسٹریٹ لائٹس 2018 سے واپڈا کی راہ تک رہے ہیں

چترال (نمائندہ چترال آفیئرز)اسٹریٹ لائٹس رات کے وقت پیدل اورسوارلوگوں کوراستہ دیکھنے میں مدددیتی ہیں ،مگرشہرچترال میں  اسٹریٹ لائٹس بند پڑے ہیں اور سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے تنصیب کیے گئے اسٹریٹ لائٹ 2018 سے واپڈا کی راہ تک رہے ہیں۔ اسٹریٹ کرائمزبھی زیادہ تراندھیری سڑکوں پرپیش آتے ہیں ،ایسے علاقے ،سڑکیں اورگلیاں جہاں پرلائٹس نہیں ہمیں ان کوچورڈاکواپنامسکن بنالیتے ہیں،اورآتے جاتے شہریوں کولوٹتے ہیں،میری حکام بالاسے التماس ہے کہ ان علاقوں میں جہاں پراسٹریٹ لائٹس نہیں ہیں ،وہاں پرلائٹس نصب ،اورجہاں پرخراب ہیں ان کی مرمت کی جائے تاکہ عوام کو آمدو رفت میں سہولیت میسرہو اورلوگ چورڈاکوں کے ساتھ ساتھ حادثات سے بھی محفوظ رہ سکیں۔ چترال بازار میں سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے اسٹریٹ لائٹس کی تنصیبی کا عمل 2018 کو مکمل ہونے کے بعد سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے واپڈا کو بائی پاس روڈ میں ٹرنسفارمر تنصیب کے لیے باقاعدہ نوٹس جاری کردیا گیا لیکن واپڈا کی جانب سے تاحال بائی پاس روڈ میں ترنسفارمر تنصیبی کا عمل تعطل کا شکار چلا آرہا ہےچترال کے عبد الولی خان بائی پاس روڈ سے لیکر اتالیغ بازار تک سڑک کے کنارےانتظامیہ نے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے گائڈ لائن پر بجلی کے سٹریٹ لائٹس نصب کیے ہیں مگر عرصہ دو سال گزرنے کے باوجود بھی یہ سٹریٹ لائٹس روشنی نہ دے سکیں وجہ واپڈا کی ہر دھرمی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چترال کے ایک شہری رشیدالحسن  نے جب وزیر اعظم کے جاری کیے سیٹیزن پورٹل میں سی اینڈ ڈبلیو سے اسٹریٹ لائٹس کے حوالے سےشکایات کی تھی۔

 

جس کے جواب میں سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے وضاحتی بیان میں واپڈا کو مورد الزام ٹہرایا گیا ہے چونکہ سی اینڈ ڈبلیو نے اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کا کام دو سال قبل ہی مکمل کرلیا تھا اور ساتھ واپڈا کے حکام کو لیٹر کیا تھا کہ

بائی پاس روڈ میں ٹرنسفارمر تنصیب کیے جائیں مگر واپڈا کی جانب سے ٹرسنفارمر کی تنصیب کا عمل گزشتہ دو سال سے تعطل کا شکار ہے چترال شہر کے بازاروں کو روشن کرنے کیلئے اسٹریٹ لائٹس نصب کیے گئے لیکن افسوس سے کہنا پڑتاہے ۔ کہ اسٹریٹ لائٹس اپنی تنصیب کےدو سال بعد بھی مردہ ہیں۔ اور چترال بازار کو روشن کرنے کا خواب شرمندۃ تعبیر نہ ہو سکا ۔

 

آج بھی چترال کا مین بازار ، عبد الولی خان بائی پاس روڈ ، اتالیق چوک ، گولدور چوک سمیت تمام بازار رات کی تاریکی میں ڈوبے رہتے ہیں ۔ اور باولے و آوارہ کتوں کی اماجگاہ بنے ہوئے ہیں ۔ حکومت کے خزانے سے لاکھوں رپوں کا اس طرح ضائع ہونا اور متعلقہ اداروں خصوصا (خصوصا واپڈا )ضلعی انتظامیہ کی نا اہلی کا واضح ثبوت ہے ۔ ایک طرف حکومت سیاحوں کو متوجہ کرنے کیلئے بیوٹیفیکیشن کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کر چکی ہے ، جبکہ دوسری طرف اسٹریٹ لائٹس کے نام پر ضیاع کے باوجود حکومت کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی ۔ جو بے حسی کی بد ترین مثال ہے ۔ چترال شہر میں عبدالولی خان بائی پا س روڈ ، شاہی بازار روڈ ، نیو بازار وغیرہ چترال شہر کی پہچان ہیں ۔ لیکن شہر کے ان اہم سیاحتی اور کاروباری بازاروں اور سڑکوں کے منصوبے ادھورے اور نہایت ناقص انجام پائے ہیں ۔ جس کی واضح مثال یہ ہے ۔ کہ بائی پاس روڈ تعمیر ہوئے سات آٹھ سال بیت چکے ہیں ۔ لیکن اس روڈ پر نصب شدہ پولز کو بجلی کی سپلائی تاحال نہیں ہوئی ۔ یوں کھمبوں کی افادیت ختم ہوکر رہ گئی ہے ۔ اور یہ روڈ رات کی تاریکی میں اداروں کی کرپشن ، غفلت اور بے حسی کا رونا رو رہا ہے ۔ بازاروں کی اس قسم کے ناگفتہ بہہ ۔ جو کہ مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ بازار کے تمام سولر کھمبوں کو بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ اس پر بھاری فنڈ خرچ ہو چکے ہیں ۔ سی اینڈ ڈبلیو کی طرف سے بائی پاس روڈ پر لگائے گئے ان کھمبوں کو روڈ کے سنٹر لائن میں نصب کرکے ڈبل سائیڈ لائٹ لگا نے چاہیے تھے ۔ اور سب سے افسوسناک امر یہ ہے ۔ کہ اب تک بائی پاس روڈ پر نصب شدہ پولز کو بجلی کی سپلائی نہیں کی گئی ہے ۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے پُر زور اپیل کی ہے ۔ کہ چترال بازار کی لائٹنگ کا مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے ۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!