شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / تعلیمی ادارے قوم کی تربیت گاہیں

تعلیمی ادارے قوم کی تربیت گاہیں

کوئی سکول،کالج،مدرسہ یا جامعہ کسی مٹی گارا سے بنی عمارت یا باجری سمنٹ اور ٹائل سے بنا مکان ہی نہیں ہوتا۔یہ ایک تربیت گاہ ہوتا ہے مقدس عمارت۔۔۔جہان پر قوم کی تقدیریں بنتی ہیں۔جہان پر قوم کا مستقبل جیتا جاگتا اور مہکتا رہتا ہے۔۔جہان قوم کے نو نہال آتے ہیں۔۔ان کے ہاتھ میں قلم تھما دیا جاتا ہے۔۔ان کے کان میں کتاب ہدا ء کا پہلا سبق۔۔قل ہو اللہ احد۔۔کہا جاتا ہے۔۔ان کے چہرے سے دھول جھاڑ کر ان کی آنکھوں میں چمک بھر دی جاتی ہے۔۔ان سے الف با اور a,b,c لکھایا جاتا ہے۔۔ان کو ان کاتعارف پڑھایا جا تا ہے کہ تم انسان کی اولاد ہو۔ان کو اٹھنا بیٹھنا سیکھایا جاتا ہے۔۔پھر ان کی ذات میں اقدار بھر دئے جاتے ہیں۔ان کو سماج کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ان کو ذہنی،اخلاقی اور علمی تربیت کی جاتی ہے۔۔مشہور انگریز عالم ٹین نے کہا تھا۔۔کہ ماں قوم کا عظیم محسن ہے وہ ایک تندرست بچہ قوم کو دے دیتی ہے یہ لو میری طرف سے تحفہ۔۔اسی طرح استاد قوم کا عظیم محسن ہے ایک تعلیم یافتہ فرد قوم کے حوالہ کرتا ہے۔۔یہ لو میری طرف سے قوم کا تحفہ۔۔لیکن اس قوم کو کیا نام دیا جائے کہ یہ نہ استاد کو احترام دیتی ہے او ر نہ ماں کو وہ مقام دیتی ہے کہ جو مقام محسن کا ہے۔۔سکول،مدرسہ لفظ ہی ایسے ہیں کہ ان سے تربیت ہی مراد ہوتی ہے۔۔انگریزی میں سکولنگ کے بہت سارے مفہوم ہیں۔لیکن اصل تربیت ہی مراد ہے۔۔مدرسہ۔۔وہ مقام جہان پر درس دیا جاتا ہے۔۔پڑھایا جاتا ہے۔۔اب پڑھائی موٹی موٹی کتابوں سے شروع نہیں ہوتی ”الف با“سے شروع ہوتی ہے۔۔استاد کو نالائق کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ بندہ”الف با“سے درس شروع کرتا ہے۔دنیا کا کوئی بھی بڑا آدمی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ اس کا کوئی استاد نہ تھا۔اس کا کوئی مربی، مدرس،معلم نہ تھا۔۔زندگی کا کوئی مرحلہ ہو انسان کو استاد کی ضرورت پڑتی ہے۔۔خوش قسمت انسان وہ ہے جسے عظیم استاد ملے۔
کویڈ ۹۱۔نے مہینوں تک بچوں کو گھروں میں محصور کر دیا۔۔سکول جاتے بچے گھروں میں قید رہے لیکن اس دوران والدیں کو استاد کی اہمیت کا پتہ چلا کہ سکول کیا چیز ہے؟۔استاد کون ہوتا ہے؟تربیت کتنی مشکل ہے؟۔۔ا س سے پہلے خاص کر سرکاری سکولوں کے بچوں کے والدیں کی یہ شکایت ہوتی تھی کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ پڑھاتے نہیں ہیں اور اساتذہ کوشکوہ ہوتا کہ والدیں بچوں کا پوچھتا نہیں ہیں۔۔اب والدیں کو احساس ہوگیا کہ استاد بہت اہم ہے۔والدیں کے تاثرات سے پتہ چلتا ہے۔کہ وہ غلط فہمی میں تھے۔استاد بہت کچھ کر رہا ہے استاد کاکام مہا کام ہے۔بچوں کو ”الف با“ پڑھانا ہی کافی نہیں اساتذہ اور بہت کچھ پڑھاتے ہیں۔انھوں نے اندازہ کر لیا کہ بچے کو صبح بستر سے اٹھانے کے لئے کتنی تک و دو کرنی پڑتی ہے۔۔دستر خوان میں کھانا کھانے کے دوران بچے کے کتنے نخرے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔یہ لو چائے پیتے ہوئے پیالی توڑ دی۔۔۔یہ لو دستر خوان میں پاؤں رکھا۔یہ لو ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا۔۔یہ لو بڑے نے چھوٹے کو تھپڑ مارا۔۔چھوٹے نے گالی دی۔۔منے نے جھوٹ بولا۔۔گڈو نے طعنہ دیا۔۔اب والدیں کو احساس ہو گیا ہے کہ قوم کے ان نونہالوں کو اس طرح چھوڑ دیا جائے تو یہ معاشرہ جنگل بن جائیگا۔۔اب سب پہ واضح ہو گیا ہے کہ استاد کو ”مار نہیں پیار“ پہ مجبور نہ کیا جائے اب ہر ایک محسوس کر رہا ہے کہ تربیت میں سزا کی کتنی اہمیت ہے۔۔۔تربیت میں سزا تریا ق کا کام کرتی ہے۔۔۔مثلا پولیس ٹریننگ سنٹر میں کوئی بچہ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے ٹریننگ پہ آتا ہے۔۔اس کا ٹرینر کوئی حوالدار،اے ایس آئی ہوتا ہے۔۔وہ اس کو صبح دھند لکے جگاتاہے ورزش کراتا ہے۔اس کے بال کٹواتا ہے۔۔اس سے پہلے وہ بانکا بچہ ان سختیوں اور پابندیوں کا عادی نہیں ہوتا۔۔اس کو یہ سب قبول کرنا پڑتا ہے۔اگر وہ ان ساری سر گرمیوں کو ”سزا“ تصور کرے تو اس کی کبھی تربیت نہیں ہوگی اور نہ وہ آگے جا کر sp,igوغیرہ بن جائے گا اس لئے صلاحیت پیدا کرنے لئے سختی برداشت کرنی ہوتی ہے جس کو آج کے ”سیانے“ تشدت کہتے ہیں اور قوم کی تربیت گاہوں سے اس کو ختم کرنے کی ٹھانی ہے۔۔ان سے کوئی پوچھے کہ آج کا یہ بچہ جو گھر میں والدیں کی بات نہیں مانتا۔۔سکول کام نہیں کرتا۔۔سکول کا گھر کے لئے دیئے ہوئے کا م بھی نہیں کرتا۔۔تختی نہیں لکھتا۔۔کاپی پھاڑتا ہے۔۔گلی کوچوں میں بچوں سے لڑتا ہے۔۔چھوٹی موٹی چوری کرنے لگا ہے۔اب استاد سکول میں اس کا کان نہ کھینچے تو آگے جا کر یہی بچہ عادی مجرم بن جائے گا۔پولیس کے ہاتھے چھڑے گا۔۔اگر ایسا ہواجب تک وہ اپنے جرم کا اقرار نہ کرے کیا پولیس اس سے ”پیار“ کرے گی۔۔قوم کی تربیت گاہوں سے اب والدیں آگاہ ہو گئے ہیں۔اس لئے انکو اہمیت دینی چاہیے۔پرانی کلچر واپس لانا چاہیے کہ والد بچے کا ہاتھ پکڑ کر استاد کے حوالے کرتا اور کہتا کہ استاد جی اس کی خوب تربیت کرو۔۔آج کے اس چکا چوند میں پھر ایک ذمہ دار قوم کی ضرورت پڑ رہی ہے کہ وہ تربیت کی آگ میں جل کر کندن بن گئی ہو۔۔قوم کی تربیت گاہوں میں سہولیات کا فقدان نہ ہو۔استاد کے کام کی نگرانی کی جائے اور والدیں بھر پور ساتھ دیں۔ان کو احساس ہو گیا ہے۔صبح سکول کے لئے تیاری سے لے کر چھٹی کے بعد گھر پہنچنے تک یہ بچے کی ”سکولنگ“ ہے یہ تربیت ہے یہ تعلیم ہے۔۔اس عمل میں استاد کا ساتھ دینا چاہیے۔۔آج والدیں کو خدشہ ہے کہ بچے کئی مہینے گھروں میں رہنے سے وہ پھر تربیت کی عادی نہیں ہو سکتے۔یہ بات درست نہیں بچے واپس سکول آئیں تو دوسرے ہی دن پھر وہ تربیت کی عادی ہو جائیں گے۔۔یہ جگہ ہی ایسی ہے۔۔اس کی قدر کرنی چاہیے

Facebook Comments