شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / انصاف اور سزا کا تکون

انصاف اور سزا کا تکون

آج کل اخبارات میں سزاوں کا ذکر ہو تا ہے اسلا می تعزیرات کی بات آتی ہے جب بھی کوئی گھنا و نا جرم ہو تا ہے سر کار کہتی ہے مجرم سزا سے نہیں بچ سکینگے مگر مجرم سزا سے بچ جا تے ہیں جب بھی کوئی بڑی واردات ہوتی ہے حکومت کہتی ہے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا یا جائے گا لیکن کوئی مجرم کیفر کردار تک نہیں پہنچتا یہ سلسلہ آج یا کل کا نہیں نصف صدی سے اسی طرح جا ری ہے مجرم اور قانون کے درمیان آنکھ مچو لی کھیلی جا رہی ہے اور اس کھیل میں انصاف کا خون ہو جا تا ہے لو گ جج کو بد نام کر تے ہیں منصف پر انگلی اٹھا تے ہیں پو لیس کے کر دار میں کیڑے ڈالتے ہیں مگر انصاف اور سزا کا تکون کسی کو نظر نہیں آتا نبی کریم ﷺ کے دور میں قانون پر عملدرآمد ہو تا تھا تو انصاف اور سزا کاتکون مو جو د تھا عہد فاروقی میں عدل کا مثالی نمونہ اسی وجہ سے پا یا جا تا تھا کہ انصاف اور سزا کا تکون اپنی جگہ قائم تھا اس تکون کے تین زاویے ہیں اس کے ایک کونے پر عوام اور معا شرہ کھڑا ہے دوسرے کو نے پر داروغہ، کو توال یا پو لیس کھڑی ہے اس تکون کا تیسرا بلکہ کمزور زاویہ جج،منصف اور کر سی نشین ہے اس تکون کا سب سے اہم زاویہ داروغہ، کو توال یا پو لیس نہیں اس کا اہم ترین زاویہ عوام اور معا شرہ ہے وطن عزیز پا کستان میں مجرم اس لئے بچ جا تا ہے کہ پو را معا شرہ مجرم کی سر پرستی کرتا ہے عوام مجرم کی حما یت کر تے ہیں مجرم کو پناہ دیتے ہیں بڑی معصو میت سے کہتے ہیں اس کے بوڑھے ماں باپ یا چھوٹے چھوٹے بچے ہیں عوام کو اس کا جرم نظر نہیں آتا اس کے ماں باپ اور بچے نظر آتے ہیں اسی وجہ سے کوئی بھی ملزم کسی جرم کی پا داش میں پکڑا جائے تو پتہ لگتا ہے کہ اس سے پہلے 6وارداتوں میں پکڑا جا چکا ہے عدالت سے بری ہو کر اگلی واردات کر تا ہے اگر اُس نے واردات کیا تو عدالت سے کیوں بری ہوتا ہے؟ عدالت کہتی ہے عدم ثبوت کی بناء پر ملزم کو بری کیا جا تا ہے عدم ثبوت کا مطلب یہ ہے کہ گو اہوں نے درست گواہی نہیں د ی پو لیس نے اس کا مقدمہ قانون کے مطا بق درست طریقے سے پیش نہیں کیا ملزم یا مجرم معمولی اور کمزور آدمی نہیں ہوتا اس کے پاس بے تحا شا دولت ہو تی ہے اُس کی پُشت پر ملکی یا غیر ملکی طا قت ہو تی ہے تفتیش کا عمل شروع ہو تے ہی دولت کا استعمال شروع ہو جا تا ہے پو لیس آرڈر 2002کے تحت ہماری پو لیس تین ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے تفتیش کا محکمہ الگ ہے عملدر آمد والا الگ ہے اور عدالت میں پیش کرنے والا الگ ہے تینوں کے درمیان کوئی رابطہ، کوئی تعلق اور کوئی ہم آہنگی نہیں ہے چند دن پہلے کا واقعہ ہے جج نے 13سال بعد ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا تو ملزم نے بھری عدالت میں جج کو دعا دیتے ہوئے کہا خدا آپ کو ترقی دے کر انسپکٹر بنائے سب لو گ ہنس پڑے جج نے کہا با با جی! جج انسپکٹر سے بڑا آدمی ہو تا ہے با با جی بولے انسپکٹر نے 13سال پہلے کہا تھا 5ہزار روپے لاؤ ابھی تمہیں چھوڑ دیتا ہو ں جج کو یہ فیصلہ کرنے میں 13سال لگ گئے ملزم 10لا کھ روپے میں وکیل کی خد مات حا صل کر تاہے انسپکٹر کی تنخوا بمشکل 70ہزار روپے ہو گی دونوں کا کوئی موازنہ ہی نہیں اگر انصاف اور سزا کا پہلا زاویہ عوام یا معا شرہ سامنے آئے تو عدالتی نظا م کا پول کھل جا تا ہے عدالت میں پیش ہونے والے ہزار گواہوں میں سے ایک گواہ بھی مفت میں گواہی نہیں دیتا پو لیس اور پراسیکیو شن کے پاس گواہ کو خوش کرنے کا کوئی انتظام نہیں اس لئے گواہ ملزم کے خر چ پر آتا ہے اس کی گوا ہی مقدمے کو مشکوک بنا کر ملزم کو شک کا فائدہ دینے کے لئے ہو تی ہے سفید پو ش اور شریف لو گ گواہی دینا پسند نہیں کرتے کیونکہ پورے عدالتی نظام میں کرایے کے گوا ہوں کا چرچا ہو تا ہے شریف آدمی اپنے آپ کو گواہ کا نام دے کر اس قسم کے لو گوں کی صف میں کھڑا ہو نا نہیں چاہتا جھوٹی گواہی دینے اور سچی گوا ہی کو چھپا نے پر جسٹس آصف سعید کھو سہ کا ایک اہم فیصلہ پی ایل ڈی میں مو جو د ہے مگر اس کو نظیر کے طور پر پیش کرنے کی نو بت ابھی نہیں آئی آج اگر گھنا ونے جرائم کے مجرم سزا سے بچ جا تے ہیں یا جرائم پیشہ عنا صر کو کیفر کر دار تک پہنچا نے میں حکومت کونا کامی ہو تی ہے تو اسکی بڑی وجہ جج، منصف یا کر سی نشین نہیں پو لیس کی کو تا ہی اور عوام کی غفلت ہے عوام کی تا ہی اور گواہوں کی عدم دستیا بی کو سب سے بڑی وجہ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا یہ انصا ف اور سزا کا تکون ہے جس کا سب سے بڑا زاویہ ہما را معا شرہ ہے اس وقت جتنے بھی قوانین مو جو د ہیں وہ عوام اور معا شرے کی وجہ سے بے اثر ہیں نئے قوانین بنائیں یا شر عی سزائیں نا فذ کریں گواہ کے بغیر کوئی قانون موثر نہیں ہو گا۔

Facebook Comments