شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / انصاف کی حکومت نے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے جبکہ مہنگائی کا جن بدستور بے قابو،اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور۔سلیم جعفر انفارمیشن سیکریڑی اے۔این۔پی۔یوتھ چترال

انصاف کی حکومت نے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے جبکہ مہنگائی کا جن بدستور بے قابو،اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور۔سلیم جعفر انفارمیشن سیکریڑی اے۔این۔پی۔یوتھ چترال

چترال (نمائندہ چترال آفیئرز) جہاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملک میں انصاف اور کرپشن فری پاکستان کی تشکیل میں پرعزم دیکھائی دیتی ہے وہاں انصاف کی حکومت میں کرپشن کے بے شمار واقعات ہیں انفارمیشن سیکریٹری اے۔این۔پی یوتھ چترال نے ایک اخباری بیان دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کی حکومت کرپشن کی نظر ہوگئی ہے جن پر سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے ان ہی میں سے ایک سے میں پردہ اٹھانے جارہا ہوں۔ٹراؤٹ فش ویلج گرانڈ 2019 اور 2020 کے درمیان ٹراؤٹ فش ویلج گرانڈ کی منظوری ہوئی جس کے تحت صوبہ پختونخواہ کے ضلع چترال کے حصے میں پانچ پراجیکٹزآئی باقی ماندہ 50 کے لگ بھگ صوبے کے دوسرے ضلعوں میں تقسیم کی گئی۔ٹراؤٹ فش ویلج گرانڈ ایک ہی ضلعے کے ایک ہی گاؤں کے لیے منظور شدہ گرانڈ ہے جس کے مطابق ایک گاؤں کو اس طرز پر ٹراؤٹ فش ویلج بنایا جائے کہ واقعی وہ گاؤں ٹراؤٹ ویلج کہلایے۔ مگر انصاف کی حکومت میں ماضی کی طرح اس بار بھی ٹراؤٹ فش ویلج گرانڈ کے نام پر دھوکہ دہی اور ڈرامہ بازی سے کام لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرانڈ کے حوالے سے کسی بھی اخبار میں اشتہار نہیں دیا گیا بلکہ اس گرانڈ کو بھی سابقہ گراند کی طرح عوام کی نظروں سے اوجھل رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ بغیر سائیڈ وزٹ اور فیزبیلٹی رپورٹ کے میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوہے اپر لوئر چترال کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے چند من پسند افراد کو گرانڈ سے نوازا جارہا ہے۔انہوں نے مزیدانکشاف کرتے ہوئے کہا گرانڈ کے لیے جن افراد کا انتخاب کیا گیا ہے ان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف چترال کی اعلی قیادت سے ہے۔ٹراؤٹ فش ویلج پراجیکٹ لینے والے افراد پی ٹی آئی کے اعلی ذمہ داران ہیں جنہوں نے پارٹی کے منشور کو پاؤں تلے روندڈالا۔حالانکہ گرانڈ کی تقسیم کار قواعد و ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے تھا مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ نہایت غیر منصفانہ اور غیر شفاف طریقہ کار سے گرانڈ دوسرے درخواست گزاروں کو بائی پاس کرکے صرف دو خاندانوں میں تقسیم کرکے میرٹ اور قواعد وضوابط کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت میں یوتھ امپکٹ پروگرام میں جو بندر بانٹ ہوئی تھی وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔اگر ٹھوس شواہد کی بات کی جائے توزمین پر ان میں سے کسی بھی پروجیکٹ کا سر سے نام و نشان ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اے۔این۔پی نے اپنے دورہ حکومت میں چترال میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیے نوجوانوں کو برسرروز گار کیا مگر انصاف کی حکومت نے غریب عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے ایک کرورڑ نوکریوں کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا گیا ستم یہ ہے کہ مہنگائی کا جن بے قابواشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور اورملکی ادارے تباہ و برباد ہوچکے ہیں۔مختلف پراجیکٹ اور گرانڈ کے نام اپنے ہی پارٹی کے افراد کو میرٹ کے بغیر گرانڈ کے نام پر کرپشن کے ذریعے پیسے بنانے کا سلسلہ ختم ہوجانا چاہیے نیب کو چاہیے کہ کرپشن کے ان میگا اسکنڈلز میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

Facebook Comments