شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / تورکھو استارو پل کی بحالی کے سلسلے میں اجلاس،5دسمبر سے احتجاجی مظاہرے شروع کرنیکا فیصلہ

تورکھو استارو پل کی بحالی کے سلسلے میں اجلاس،5دسمبر سے احتجاجی مظاہرے شروع کرنیکا فیصلہ

اپر چترال (نمائندہ چترال آفیئرز ) سب تحصیل تورکہو کے عمائدین کا ایک اجلاس سابق ناظم عبد القیوم بیگ کی صدارت میں شاگرام کے مقام پر منعقد ہواجس میں تریچ کے عمائدین بھی شرکت کیں۔ اجلاس میں بونی تورکہو زیر تعمیر روڈ میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی غفلت پر انتہائی غم وغصے کا اظہار کیا گیا ۔

 

اجلاس سسے سابق کمشنر سلطان وزیر اجنو،قاضی جمیل کھوت، سابق ضلعی ممبر سیف اللہ شاگرام،سابق تحصیل ممبر علاو الدین عرفیؔ تریچ،مولانا امتیاز شاگرام، شاہد عالم لال سور وہت،سفیر اللہ واشیچ،اشرف نظار شوتخار،مغل واشیج،احمد زرین رائین،سابق ممبر امان اللہ اجنو،حاجی غفران مڑپ،حاجی حمید شاگرام،ظفر لال ریچ،عصمت اللہ سابق چیر مین واشیچ،سابق وی۔سی ناظم میر نظام الدین کھوت،مولانا ریاض شاگرام،امیر اللہ واشیچ اور ڈرائیور برادری کے نمائیندے بھی خطاب کئے۔

 

عمائدین نے کہا کہ استارو پل ۲اپریل ۲۰۲۰کے دن گرگیا تھاجس کی وجہ سے علاقے کی اسی ہزار آبادی متاثر اور تورکہو و تریچ کی عوام انتہائی مشکلات کا شکار ہیں بار بار مطالبہ کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی اب چونکہ سردیوں کے موسم اور برفباری میں ان علاقوں کے عوام کی مشکلات میں مذید اضافہ ہوگیا ہے ۔ متبادل روڈ انتہائی خطرناک اورتنگ ہونے کی وجہ سے حالیہ برف باری کے بعد دودفعہ گاڑیاں حادثے سے دوچارہوئےمگرضلعی انتظامیہ اورمحکمہ سی اینڈ ڈبلیوخاموش تماشائی ہے جس کیوجہ سے علاقے کے مکین سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوگئے ہیں اورآجکا یہ اجلاس اسکی کڑی ہے ۔

 

 

اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی ۔ جس میں مطالبہ کیا گیا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو استاروکے مقام پر عارضی اسٹیل پل کا بندوبست کرکے محفوظ ٹریفک کو دوبارہ بحال کرے۔ اورصوبائی حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ اسٹیل پل کے تنصیب کے سلسلے میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو سے تعاون کرے۔ بصورت دیگر علاقے کے عوام کی مشکلات میں مذید اضافہ ہوگا اور نوبت جلسہ جلوسوں اور دھرنوں تک پہنچ جائیگا جس سے حالات خراب ہونے کی صورت میں نقصانات کا ذمہ دار محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور ضلعی انتظامیہ ہوگی۔

 

 

اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ ۵دسمبر کو ایک عوامی احتجاجی جلسہ منعقد کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔جس میں احتجاجی مظاہرہ، دھرنے اور لانگ مارچ شامل ہے۔

Facebook Comments