شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / تحریک تحفظ حقوق چترال کا استارو پل کی بحالی کیلئے اتوار سے پشاور پریس کلب پر دھرنا دینے کا اعلان

تحریک تحفظ حقوق چترال کا استارو پل کی بحالی کیلئے اتوار سے پشاور پریس کلب پر دھرنا دینے کا اعلان

پشاور(چترال آفیئرز) تحریک تحفظ حقوق چترال نے ضلع اپر چترال کے علاقہ تورکھو اور تریچ کی ایک لاکھ سے زائد آبادی کے واحد رابطہ پل کی مرمت و بحالی کیلئے حکومت کو دیئے گئے ایک ہفتے کا الٹی میٹم ختم ہونے کے بعد اتوار 6 دسمبر سے پشاور پریس کلب پر مسئلے کے حل تک دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ پشاور میں تحریک تحفظ حقوق چترال کے ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا، جس میں تحریک کے عہدیداران اور پشاور میں مقیم مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے چترالی کمیونٹی کے نمایاں افراد نے شرکت کی۔ اجلاس سے تحریک تحفظ حقوق چترال کے چیئرمین پیر مختار نبی،سابقہ DCO حسین احمد، رحمت علی ایڈوکیٹ (چترال لایئر فارم) خادم الاسلام ایڈوکیٹ، مولانا شمس النبی معاویہ، مولانا احسان الحق، مولانا فتح الرحمن، زبیر احمد بابک،

 

و دیگر نے خطاب کیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر انتہائی غم و غصّے اور شدید افسوس و دکھ کا اظہار کیا کہ آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود ضلع اپر چترال کی انتظامیہ، صوبائی حکومت، منتخب نمائندگان، مشیر سی ایم، محکمہ سی این ڈبلیو سمیت تمام متعلقہ ادارے و افراد علاقہ عوام کی تکلیف و مشکلات کا احساس کرنے سے عاری ہیں اور مسلسل پر امن احتجاج کے باوجود کوئی بھی علاقے کی ایک لاکھ کی آبادی کی آواز سننے کو تیار نہیں ہے، تحریک تحفظ حقوق چترال کے چیئرمین پیر مختار نبی نے کہا کہ اس وقت شدید سردی اور برفباری کے موسم میں تورکھو اور تریچ کے ایک لاکھ سے زیادہ عوام محصور ہو کر دوہری اذیت سے دو چار ہیں، مگر مقامی انتظامیہ، منتخب نمائندوں اور حکومت میں سے کسی کو بھی غریب عوام کی مشکلات کی پروا نہیں ہے۔ پیر مختار نبی نے کہا کہ تحریک تحفظ حقوق چترال نے ایک ہفتہ پہلے سات دن میں فوری طور پر استارو اسٹیل پل کی تنصیب کیلئے حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو الٹی میٹم دیا تھا، مگر ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود یہ کہتے ہوئے ہمیں شدید دکھ اور افسوس ہو رہا ہے کہ کسی نے بھی اس اہم ترین عوامی مسئلے پر توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ پیر مختار نبی نے کہا کہ اب تحریک تحفظ حقوق چترال نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک استارو پل فوری بحال نہیں کیا جاتا اور چترال کے روڈ اور ہیلتھ سے متعلق بنیادی مسائل حل نہیں کئے جاتے، تب تک دھرنے دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں پشاور پریس کلب پر دھرنا دیا جائے گا، دوسرے مرحلے میں پشاور پریس کلب کے دھرنے کے ساتھ ساتھ چترال کے مختلف مقامات پر بھی دھرنے شروع کر دیئے جائیں گے اور بات صرف ایک پل کی بحالی کے مطالبے تک محدود نہیں رہے گی، چترال کے تمام دیرینہ عوامی مسائل کے حل تک یہ پر امن تحریک جاری رہے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشاور پریس کلب پر دھرنا کورونا ایس او پیز کی مکمل پابندی کے ساتھ دیا جائے گا۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!