شہ سرخیاں
Home / احتشام الرحمن / تین ڈپٹی کمشنرز کی یاد میں تحریر: احتشام الرحمن

تین ڈپٹی کمشنرز کی یاد میں تحریر: احتشام الرحمن

*تین ڈپٹی کمشنرز کی یاد میں*

 

کسی بھی معاشرے کی بہتری کے لئے تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے. خاص کر کے چترال جیسی جگہ جہاں لوگوں کی زندگی کا دارومدار ہی تعلیم سے وابستہ ہو وہاں اس کی اہمیت دوگنی ہو جاتی ہے. تعلیم کے لحاظ سے چترال خیبر پختون خواہ کے ان چند ضلعوں میں سے ایک ہے جہاں خواندگی 90 فیصد سے زیادہ ہے. لیکن اس کے باوجود چترال کے لوگ وہ کچھ نہیں کر پاتے ہیں جو دوسرے علاقوں کے لوگ کر گزرتے ہیں.

 

بحیثیت طالب علم اور پانچ سالہ تدریسی تجربے کے بعد مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی وجہ رہنمائی اور معیاری تعلیم کا فقدان ہے. اس کی طرف نہ ہمارے سیاسی رہنماوں نے توجہ دی نہ ہی ماہرین تعلیم نے. تاہم خوش قسمتی سے اللہ نے بیوروکریسی کے ذریعے چترال پر ہمیشہ اپنی مہربانی فرمائی.

 

ڈپٹی کمشنر چترال جناب جاوید مجید اور شہید اسامہ وڑائچ صاحب کے بعد پھر سابق ڈپٹی کمشنر چترال, جناب نوید احمد صاحب چترال کے لئے رحمت بن کر آئے. آپ کی قائدانہ صلاحیتیں شہید اسامہ وڑائچ صاحب کی یاد دلاتی ہیں. آپ نے ان کاموں کو پورا کرنے کا عزم کیا جو شہید اسامہ وڑائچ صاحب کے خواب تھے. آپ نے اپنی مختصر سروس میں جو کچھ کیا پے اس میں ان کا ذکر کرنا ممکن نہ ہوگا اس لئے چند ایک کا ذکر کروں گا.

 

بحیثیت ایڈمینیسٹریٹر آپ کے لئے سب سے بڑا چیلنج کووڈ-19 سے نمٹنا تھا. اس دوران نوید صاحب نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے چترال کو ہر ممکن اس وبا سے بچانے کی کوشش کی. لاک ڈاون کو نہ صرف زبردست طریقے سے نافذ کیا بلکہ باہر سے آنے والوں کے لئے ایک زبردست قرنطینہ سسٹم متعارف کرایا. سیاسی دباو اور مخالفت کے باوجود اپنے دعوے پر نہ صرف ڈٹے رہے بلکہ اس کو احسن طریقے سے پورا بھی کیا.

 

آپ نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے پوسٹنگ کے محض ایک ہفتے کے دوران دی لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کا دورہ کیا اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی. دی لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کو اس کے پرانے سٹیٹس پر بحال کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے کہ آپ کا تبادلہ کیا گیا.

 

آپ نے شہید اسامہ وڑائچ کیریئر اکیڈمی کے حوالے سے وہ کام کئے جن کا خواب شہید اسامہ وڑائچ صاحب نے دیکھے تھے. یہ آپ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج اکیڈمی ایک خود مختار ادارہ بن گیا ہے. اکیڈمی کے لئے الگ عمارت کی نہ صرف تجویز دی بلکہ اس کی تعمیر کے لئے مختلف اداروں سے بات کر کے ایکیڈمی کے لئے الگ عمارت کے خواب کو بھی پورا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے. اس کے لئے حکومتی زمین دینے کا نہ صرف وعدہ کیا بلکہ اس کو مختص کرنے کے لئے حکام بالا سے بات بھی کی تھی.

 

تاہم بدقسمتی سے اکیڈمی کے لئے جس زمین کو مختص کیا گیا تھا اس پر اکیڈمی کی تعمیر کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی گئی. ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے ہی ایک عہدیدار نے اس تعمیر کو روکنے کے لئے اپنی پوری سعی کی.

 

معلومات لینے پر پتہ چلا کہ وہ صاحب اس جگہ فصل کاشت کرتا ہے اور ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر مقدم رکھ کر مختلف رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے. جب وہ اپنی کوششوں میں ناکام ہوا تو دوسرے حربے آزمانے لگا. اس نے اس تعمیر کو روکنے کے لئے چنار کے درختوں کا بہانہ بنا کر سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے عدالتی اسٹے لینے کی کوشش کی.

 

اس بات کا پتہ چلا تو میں بذات خود اس جگہ گیا اور دیکھا کہ آیا یہ حقیقیت ہے یا نہیں. وہاں جا کر دیکھا تو یہ جان کر حیرانگی ہوئی کہ وہاں چنار کا کوئی درخت ہے ہی نہیں. البتہ اس سرکاری زمین پر اس موصوف کی فصل کھڑی تھی, ساتھ تین گائے اور ان کے لئے چوپال بنا ہوا تھا.

 

اب وہ خود کچھ کرنے کی سکت کھو چکا ہے اس لئے پی ٹی آئی کے ایک سیاسی رہنما کا سہارا لے کر اس جگہ اکیڈمی کی تعمیر کو روکنے کے لیے تگ و دو کر رہا ہے. مجھے اس سے بھی کوئی گلہ نہیں کیونکہ وہ پٹواری ذہن کا ایک بابو ہے. مجھے افسوس ان لوگوں پر ہو رہا ہے جو خود کو چترال کا لیڈر کہتے ہیں لیکن قوم کی ترقی کے لئے خود تو کچھ کرنا محال دوسروں کو بھی کچھ کرنے سے روکنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں.

 

میرا سوال یہ ہے کہ آیا قوم کی بہتری کے لئے اس اکیڈمی کا بننا ضروری ہے یا اس عہدیدار کی اگائی ہوئی فصل ضروری ہے؟ کیا عدالت کو نہیں چاہئے کہ وہ اس جگہ کا معائنہ کرائے اور دیکھے کہ حقیقت کیا ہے؟ کیا وہ دعویدار سچا ہے یا جھوٹا؟ عدالت بھی جلدی یہ فیصلہ کرے کہ اس عہدیدار کے چوپال اور گائیوں کو بچانا چاہئے یا اکیڈمی تعمیر کر کے قوم کے مستقبل کو بہتر بنانا چائے؟

 

فیصلہ آپ کا!

Facebook Comments
error: Content is protected !!