شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / جمہوری تماشا گاہ اور بزرگوں کی روحیں

جمہوری تماشا گاہ اور بزرگوں کی روحیں

 

ملک میں جمہوریت کا نعرہ دل پذیر اور جھنڈا لے کے جلسے جلوسوں اور احتجاج کی بہت ہی رنگین تاریخ موجود ہے ان کا نتیجہ بھی بہت الٹا رہا۔۔ملک کے محافظ ملک کے باگ ڈور سنبھالتے رہے۔۔مرتے کیا نہ کرتے۔ہماری جمہوریت کی تاریخ ہی ایسی ہے۔۔باباے قوم کے انتقال کا قصہ سنا کر آج بھی کچھ بزرگ انگلی دانتوں میں دباتے ہیں۔اس کے بعد قاید ملت کی موت واقع ہوئی۔اس کی شہادت کا کوئی نتیجہ قوم کے سامنے نہیں آیا۔۔پھر چند سالوں کی ہماری جو تاریخ ہے وہ ناقابل بیان ہے۔۔ہم نے ملک ایسا چلایا گویا کہ بچے گھروندا بناتے اور بگاڑتے ہیں۔پھر ڈیکٹیٹرشپ آئی ہم نے ویویلا کیا کہ ڈیکٹیٹرشپ ہے۔۔ظلم ہے۔۔جمہوریت آجائے۔۔۔

 

جمہوریت زندگی ہے زندہ قوموں کی شناخت ہے۔۔جمہوریت خوشحالی کی نوید ہے ہر مسئلے کا حل ہے۔۔مگر جمہوریت آیسی آئی کہ ہم اپنی شناخت تک کھوتے کھوتے بچے۔۔ایک بازو ٹوٹا۔۔دشمن کو وار کرنے کا موقع ملا۔پھر ہم نے جمہوریت کے ساتھ وہ کچھ کیا کہ بیان سے باہر ہے۔۔محافظوں نے باگ ڈور سنبھالی۔۔ہم چیختے چلاتے رہے۔۔جلسے جلوس کرتے رہے۔۔اتحاد بناتے رہے۔۔پھر پے در پے جمہوریتوں نے بھی ہمارا کباڑا کر دیا۔۔ہمیں اتحاد وغیرہ کا تلخ تجربہ ہے۔۔

 

ایک جمہوری پارٹی آتی پھر دوسری آتی پھر پہلے کی باری آتی۔۔ہم اپنے توسن کو صبا باندھتے رہے لیکن عجیب بات یہ تھی کہ پارٹی اقتدار میں آتی وہ اپنے پیشرووں کو کیا کیا غلاظتیں نہ بکتی لیکن دوسرے کی باری آتی تو اس کا کام دوسری کو کوسنا ہوتا۔۔بہتر سالوں میں ہمارا خزانہ خالی ہی رہا۔۔ہمارے ادارے کرپٹ ہی رہے۔۔اب کی بار پھر جمہوری اتحاد بنی ہے۔۔اجلاس ہو رہے ہیں ایک اجلاس میں اچھنبے کی بات ہوئی۔۔۔بزرگوں کی روحیں آکے شریک ہوئی۔۔یہ لو باباے قوم۔۔یہ شاعر مشرق۔۔یہ قائدملت۔۔یہ لو علمائے کرام۔۔۔لیکن جب اجلاس کی کاروائی شروع ہوئی تو بزرگ تڑپ اُٹھے۔۔

 

دیکھا یہ تو وہی ایک دوسرے کو گالیاں بکنے والے ہیں۔۔یہ آصفہ اور مریم ان کے بزرگ ایک دوسرے کو کیا کیا سنایا کرتے تھے۔۔یہ لو قاف لیگ نون لیگ۔۔یہ لو جمہوری پارٹی اے این پی۔۔۔یہ لو لیڈرشپ۔۔بزرگ حیران تھے یہ تو کھلی منافقت ہے۔۔کیا ان کو ان کی کارکردگی یاد نہیں آتی۔۔۔یہ کائرہ تو جماعت اسلامی میں ہوا کرتے تھے۔۔یہ لو چودھری برادران یہ تو نون پھر قاف۔۔۔یہ تو سب۔۔۔۔بزرگوں کی روحیں بے چین ہو گیں۔۔قائد اعظم سر پکڑ کے خاموش بیٹھے تھے۔۔اقبال نے سر اٹھا کر درد سے کہا

گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو

کہ از مغز دوصد خر فکر انسانی نمی آید

اتنے میں خاک کشمیر لہولہان آگئی۔سرفروشوں کی روحیں تڑپ کے آگئیں۔تحریک آزادی کے متوالے آجمع ہوئے۔۔۔انھوں نے کہا کہ جمہوری تماشے اس ملک میں اسی طرح ہوتے رہتے ہیں۔۔یہ لوگ احساس کیوں نہیں کرتے۔۔ان سے کوئی پوچھتا کیوں نہیں کہ اس ملک کی دولت جاتی کہاں ہے۔۔یہاں ترقیاتی کام ہوتے کیوں نہیں ہیں۔۔یہاں پہ تجارت میں خسارہ کیوں یوتا ہے۔۔یہاں کے اداروں میں کون بیٹھے ہیں کہ تباہ و برباد ہوچکے ہیں۔۔یہاں پہ استاد کرپٹ کیو ں ہے پولیس جرائم میں ملوث کیوں ہے۔۔معصوم اور پھول جیسی بچیوں اور بچوں کی زندگیاں محفوظ کیوں نہیں۔۔عدالتوں میں انصاف کی دھجیان کیو ں اڑائی جاتی ہیں۔۔۔۔

 

یہ عجیب چہرے ہیں۔۔۔یہ سب شریک جرم ہیں۔۔۔یہ سب مجرم ہیں۔۔۔پھر سٹیچ پہ بات کرتے ہوے ان کو شرم محسوس کیوں نہیں ہوتی۔۔ہم نے اس دھرتی کے لیے قربانیاں اس لیے نہیں دی تھیں کہ اس میں چوپٹ راج ہو جنگل کا قانون ہو۔یہ تو سب خلوص سے عاری ہیں۔۔ذرا ان کی نیتوں کو چیک کرو۔۔کل یہ ایک دوسرے کے جمہوری دشمن تھے آج اقتدار کی اسی لالچ نے ان کو دوست بنا دیا کیا یہ دوستی برقرار رہ سکتی ہے کیا ایسی دوستی پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔۔غریب کچلا جا رہا ہے۔۔۔

 

یہ لو یہ سب امیر ہیں ان کو غریبی کا کیا احساس ہوگا۔یہ کیا تبدیلی لائینگے۔۔آزمودن را ازمودہ جہل است۔۔۔یہ سب سادا لوح پاگل کیوں یہاں پہ جمع ہیں کیا ان کو تاریخ یاد نہیں۔۔بزرگوں کی روحیں یکدم اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہیں۔۔یا اللہ ان سادہ لوحوں کو ایسی جمہوری تماشا سے نجات دے۔۔۔اے اللہ اپنے حبیب کے صدقے ان کو ایسی حکومت سے بہرہ مند فرما جو ان کو حقیقی معنوں میں ایک پاکیزہ جمہوری قوم بنا دے۔۔بزرگوں کی روحیں اس دعا کے ساتھ اٹھ کر چلی جاتی ہیں لیکن جمہوری تماشا گاہ میں جھوٹ کی بد بو پھیل کر فضا کو لپیٹ میں لے رہی ہو تی ہے

Facebook Comments
error: Content is protected !!