شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال میں صحت کے مسائل کا واحد حل میڈیکل کالج

چترال میں صحت کے مسائل کا واحد حل میڈیکل کالج

چترال میں صحت کے مسائل کا واحد حل میڈیکل کالج

چترال میں صحتِ عامہ کے مسائل کا حتمی حل اے کٹیگری ہسپتال کی بجائے میڈیکل کالج کا قیام ہے ۔  یقینی طور پر ہسپتالوں کو اپ گریٹ کرنے اور جدید سازو سامان سے لیس کرنے سے علاج کی جدید سہولیات میسر آئیں گی ۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہسپتال اپ گریڈ ہو بھی جائے اور جدید سامان بہم پہنچائے بھی جائیں مگر سپیشلسٹ ڈاکٹرز چترال میں تعیناتی کے لئے کسی طور راضی نہ ہوں تو جدید سازو سامان لوہے اور دیگر دھاتوں کا ڈھیر بن کر رہ جاتے ہیں ۔   آپ سب کو معلوم ہے احتجاجِ بسیار کے بعد کچھ ڈاکٹرز کی چترال پوسٹنگ ہوجاتی ہے مگر پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ان ڈاکٹرز کا طیارہ چترال لینڈ کئے بغیر ہی دوسرے پورٹ منتقل ہوجاتا ہے ۔  حال ہی میں دروش ٹرانسفر ہونے والی لیڈی ڈاکٹر کی دروش میں حاضری دینے سے پہلے ہی لاہور اپائنمنٹ ہوگئ ۔ اس کی وجہہ یہ ہے کہ چترال کے مقابلے میں ہاکستان کے دیگر شہروں اور بیرونِ ملک ڈاکٹروں کو بہت ذیادہ مراعات ملتے ہیں ۔   چترال کے موسمی حالات ، مراعات کی کمی اور مجموعی طور پر چترال میں زندگی کا پست معیار لاکھوں روپے خرچ کرکے اعلی درجے کے امتحانات پاس کرکے سیٹ حاصل کرنے والے جدت پسند ڈاکٹرز کے لئے قابلِ قبول نہیں ہوتے ۔ یہی وجہہ ہے کہ نہ صرف ڈاون ڈسٹرکٹ کے ڈاکٹرز چترال میں تعیناتی پر آمادہ نہیں ہوتے بلکہ خود چترال کی سیٹ پر سیلیکٹ ہونے والے ڈاکٹرز پشاور ، اسلام آباد ، لاہور ، کراچی اور بیرونِ ملک سدھار جاتے ہیں ۔  کہا جاتا ہے کہ سیرئیز مریضوں کی ستر فیصد اموات کا سبب پشاور منقلی کا مشقت طلب سفر ہوتا ہے ۔  کیونکہ کچھ مریض سفر کے دوران انتقال کر جاتے ہیں ۔ اور کچھ کی حالت سفر کی وجہہ سے مزید بگڑ گئ ہوتی ہے اس لئے پشاور پہنچنے کے کچھ دن بعد انتقال کرجاتے ہیں اور کچھ پشاور روانگی کے انتظار میں ایمبولینس کی بروقت عدم دستیابی ، یا خراب موسمی حالات ( جیسے انقلابی مرحوم ) کے سبب چترال ہسپتال میں پڑے رہنے سے انتقال کرجاتے ہیں ۔       لواری ٹنل اب بھی سطحِ سمندر سے اتنی اونچائ پر واقع ہے کہ سردیوں میں برفباری کی صورت میں روڈ تین سے چار دن بند رہتا ہے ۔ اور گرمیوں میں سیلاب کی وجہہ سے سڑکیں اور پل ٹوٹنے سے آمدورفت میں رکاوٹ آجاتی ہے ۔ چترال میں خواندگی کی شرح ملاکنڈ کے تمام اضلاع سے بلند ہے ۔ چترال کے %80 سٹوڈنٹ میڈیکل ایجوکیشن حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ چترال کے دو اضلاع ، و متصل ضلع غذر و ضلع اپر دیر و مجموعی حالات کے پیشِ نظر چترال میں میڈیکل کالج کا قیام عین برحق ، معقول اور اصولی فیصلہ ہے ۔     میڈیکل کالج کے قیام سے مذکورہ بالا تمام مسائل کا حل نکل آئے گا ۔ ڈاکٹرز اور مریض دونوں کے لئے حالات ذیادہ سازگار ہوں گے ۔ ضروری ہے کہ اہلیانِ چترال صحتِ عامہ کے مسائل حتمی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے چترال میں میڈیکل کالج کے قیام کو اپنے اول درجے کی ترجیحات میں شامل کرکے اس کے قیام کے لئے کوششیں تیز تر کریں ۔

 

کیونکہ جان ہے تو جہان ہے ۔ شکریہ

Facebook Comments