شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پن بجلی کے نئے منصو بے

پن بجلی کے نئے منصو بے

خبر آئی ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مشیر توانا ئی حما یت اللہ خان کے ہمراہ سائنس اور ٹیکنا لو جی کے وفا قی وزیر فواد چوہدری کے ساتھ آن لائن میٹنگ میں خیبر پختونخوا کے 13پن بجلی گھر وں کے لئے بلجیئم کی نئی ٹیکنا لو جی حا صل کرنے پر اتفاق کیا ہے ٹیکنا لوجی کے حصول میں وفاقی حکومت صوبے کی مدد کریگی یہ ٹیکنا لو جی چائینہ اور انڈو نیشیا کے مقا بلے میں زیا دہ پائیدار ہو گی جر منی اور فرانس کے مقا بلے میں سستی ہو گی گویا ہمارے حالات اور مطا لبات کے عین مطا بق ہو گی خبر میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ اس منصو بے کے تحت صو بے کے پہاڑی علا قوں میں پا نی کی دستیا بی کے مطا بق ایسے دیہات میں 50کے وی سے لیکر 200کے وی تک چھو ٹے بجلی گھر بنا ئے جائینگے جہاں نیشنل گرڈ کی بجلی دستیاب نہیں ہوگی یا د رہے کہ صو بائی حکومت نے 2014ء میں بھی ہزارہ، دیر، سوات، کو ہستان اور چترال میں چھوٹے پن بجلی گھر وں پر کا م شروع کیا تھا ان میں سے کچھ بجلی گھر تیار ہو چکے ہیں کچھ تیاری کے مراحل میں ہیں.

 

چھوٹا پن بجلی گھر ایک نعمت خدا وندی ہے جو لا ئی اور اگست میں جب پورا ملک لو ڈ شیڈنگ کی زد میں ہوتا ہے کو ہستان، دیر اور چترال کے چھوٹے دیہات میں 100کے وی اور 200کے وی بجلی گھروں کی سستی بجلی وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہے گھر یلو استعمال کے علا وہ آٹے، لکڑی اور ویلڈنگ کی مشینیں بھی اس بجلی پر کا م کرتی ہیں گھریلو استعمال کا بل 200روپے اور مشینوں کا بل 1000روپے ما ہا نہ مقرر کیا گیا ہے کراچی یو نیورسٹی کے پر وفیسر وں کا ایک گروپ ایک سال پہلے چترال گیا تھا اس گروپ نے چار دیہا ت میں ایسے بجلی گھروں کی بجلی کا لطف اٹھا یا یہ بات اُن کے لئے حیرت کا باعث تھی کہ ان بجلی گھروں کا انتظام دیہی کمیٹیوں کے سپرد کیا گیا ہے .

 

پرو فیسروں نے اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کیا کہ چترال کے با صلا حیت لو گوں نے جغور، پرئیت، بو نی وغیرہ میں ایسے بجلی گھر 1956میں قائم کئے تھے یہ 8بجلی گھر تھے 2یا 3گھر وں کو بجلی ملتی تھی اُس دور میں یہ بھی غنیمت تھی پرو فیسروں کے گروپ نے ایک گاوں میں آغا خان رورل سپورٹ پرو گرام کا پن بجلی گھر دیکھا جس کے بلنگ کا نظام کارڈ کے ذریعے بنا یا گیا تھا ہر صارف کا رڈ کے ذریعے بل جمع کر تا ہے کارڈ ختم ہو تے ہی بجلی منقطع ہو جا تی ہے یہ ایسا نظام ہے جو پا کستان کے کسی بڑے ادارے نے بھی نہیں از مایا پہاڑی وادیوں کے اندر چھوٹے سے گاوں کی نیم خواندہ کمیو نیٹی اس نظام سے کا م لیتی ہے پرو فیسروں کو 7ہزار میٹر بلندی والی چوٹی تریچمیر کے بیس کیمپ تک جا نا تھا راستے میں ان کو شورغا لی نا م کے گاوں میں تیریچ کا وہ بجلی گھر دکھا یا گیا جو دار لعلوم کر اچی کے طلباء نے گر میوں کی چھٹیوں کے ساتھ کورونا کی چھٹی ملا کر 4مہینوں میں اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کیا تھا یہ اپنی طرز کا الگ عجو بہ ہے جو 16گھرانوں کے 200نفوس کو بجلی کی سہو لت دیتا ہے اس کا خیال یوں آیا کہ گاوں کے 38نو جواں چھٹیوں پر آگئے تھے رمضا ن کا مہینہ تھا انہوں نے سوچا بجلی گھر بنا یا جائے یو نیور سٹی اور کا لج کے طلباء نے بھی ساتھ دیا ایک ساتھی کومشینری کا کام سپر د کیا گیا ایک ساتھی کو اکا ونٹس کا کام دے دیا گیا 36بند ے کدال اور بیلچہ لیکر نہر کی کھدائی میں لگ گئے مئی کے مہینے میں کا م شروع ہو ا ستمبر کے مہینے میں بجلی گھر تیا رہوگیا ان نو جوانوں نے این جی او کے دفتر جا نا منا سب نہیں سمجھا 16گھر انوں سے چند ہ لیا اپنے گھر کا کھا نا کھا یا قریبی گاوں سے ٹیکنکل ایکسپرٹ بلا یا اور کام مکمل کیا .

 

شو رغا لی کا بجلی گھر 100کے وی بجلی پیدا کر تا ہے جو ہر قسم کی گھریلوضروریات کے لئے کا فی ہے دارلعلوم اور مدرسہ کے طلباء کا یہ جذبہ دوسروں کے لئے قابل تقلید ہے صو بائی حکومت کی طرف سے چھوٹے پن بجلی گھروں کے لئے وفاقی حکومت کے ذریعے بلجیئم کی نئی ٹیکنا لو جی حا صل کرنا باعث مسرت ہے اس سلسلے میں گذشتہ تجربات سے فائدہ اٹھا نا ضروری ہے 2014سے پہلے پن بجلی گھروں کا انتظام دیہی کمیٹیوں اور تنظیموں کو دیا جا تا تھا جو کا میاب تجربہ تھا 2014میں دیہی تنظیموں کو ختم کر کے بجلی گھروں کا کام ٹھیکہ داروں کو دیا گیا اس طرح ایک سال کا کام 6سالوں میں ہوا وہ بھی غیر معیاری تھا اس نا کام تجربے کے بعد لا زم ہے کہ نئے بجلی گھروں کا کام دیہی تنظیموں کو دے دیا جائے تا کہ وزیر اعلیٰ کی محنت کا ثمر دیہا تی عوام کو مل جائے

Facebook Comments