شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / اپر چترال میں بجلی کی بدترین لوشیڈنگ کے حوالے اجلاس، بحالی کیلئے 27 جنوری تک کا ڈیڈ لائن

اپر چترال میں بجلی کی بدترین لوشیڈنگ کے حوالے اجلاس، بحالی کیلئے 27 جنوری تک کا ڈیڈ لائن

اپر چترال ( چترال آفیئرز) بجلی کی حالیہ ناروا لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے تحریک حقوق عوام اپر چترال کی ایک اہم میٹنگ پیر کے دن وزیر شاہ ہاوس کوراغ میں صدر تحریک حقوق مختار احمد لال کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں تحریک حقوق کے عہدیداران اور ممبران کے علاوہ علاقہ عمائدین اور سیاسی و سماجی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کیں۔ م

 

یٹنگ میں مذکورہ مسئلے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو اور مشاورت کی گئی۔ میٹنگ کے شرکاء نے متعلقہ اداروں، اپر چترال انتظامیہ اور ایم۔این۔اے و ایم۔پی۔اے کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ شرکاء کا موقف تھا کہ امسال موسمی حالات انتہائی سازگار ہونے کے باوجود اداروں کی طرف سے مختلف حیلے بہانے بناکر اپر چترال کے عوام کو بجلی سے محروم کیا جارہاہے۔

 

تحریک حقوق عوام اپر چترال کی طرف سے سردیوں کی آمد سے پہلے ہی متعلقہ اداروں سے درخواست کی گئی تھی کہ بروقت انتظامات کرکے سردیوں میں بجلی کی بلا تعطل سپلائی کو یقینی بنایا جائے لیکن اس درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ گزشتہ 15 دنوں سے بدترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اداروں کا موقف ہے کہ لواری ایریا میں واپڈا ٹرانسمشن لائن میں کہیں مسئلہ ہے اور نیشنل گرڈ سے بجلی سپلائی نہیں ہو رہی۔

 

گولین گول پاور ہاؤس سے پیداوار 10 میگاواٹ رہ گئی ہے جو کہ ناکافی ہے۔ شرکاء نے موقف اختیار کیا کہ ٹرانسمشن لائن میں معمولی خرابی کو 15 دن تک انتہائی سازگار موسم میں ٹھیک نہ کرنے کا صاف مطلب ہے کہ متعلقہ ادارہ اس مسئلے کو حل کرنے میں قطعی سنجیدہ نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اس سازگار موسم میں گولین گول کی بیداواری صلاحیت کا 10 میگاواٹ رہ جانا بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس گھمبیر مسئلے کے حل میں انتظامیہ اپر چترال بھی کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ متعلقہ ادارے اور انتظامیہ عوام کو سڑکوں پر لانا چاہتے ہیں۔ ان عوامل کی روشنی میں اس میٹنگ میں قرارداد پیش کی گئی جس کے مطابق اپر چترال کے مختلف علاقوں میں میٹنگز منعقد کئے جائیں گے اور پھر 27 جنوری بروز منگل چرون کے مقام پر ایک زبردست احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے گا۔ اس جلسے میں احتجاجی مظاہروں کے آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا جس میں لانگ مارچ، دھرنا، شٹرڈاون وغیرہ زیر غور ہونگے۔

 

Facebook Comments
error: Content is protected !!