شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / بلین ٹری سونامی

بلین ٹری سونامی

موجودہ حکومت کی بلین ٹریز کی کامیابی سے ہمارے چترال  زمین کی ٹکراؤ اور چترال کے نہ خوبصورتی دوبارہ بحال ہوسکتا ہے بلکہ مختلف جگہوں میں سیلاب آنے سے دریاء نقصانات نہیں ہونگے جو کہ ہمارے لئے نیک شگون ہے ۔سیلابی ریلے میں خاطر خواہ کمی بھی نظر آئے گا جس سے چترال کی پیداوار کو بھی بہت سے فائدہ پہنچنے کا قوی امکانات موجود ہیں کیونکہ چترال میں پائے جانے والے پیداوار کی 99فیصد نالوں میں سیراب ہوتے ہیں بدین وجہ اس کی کامیابی کا سر بھی یہ ہی بلین ٹریز پر منحصر ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ ہمارے بنجر اراضیات اور دریاء کنارے River Bad میں یہی پروجیکٹ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جہاں انکی کامیابی ایک مثال ہے۔اس کے پیش نظر حکومت حکومت جنگلات کی تحفظ کیلئے ہر گاؤں کی سطح پر محکمہ فارسٹ کو فعال بنانے کیلئے ،،نگہبان،،مقرر کی ہیں جوکہ ہر جنگلات میں اگنے والے خود رو دیار کے پودوں کو بھی تحفظ ہوسکتی ہے جن کو پہلے بکریوں سے نقصان پہنچتا تھا اس پالیسی سے نہ صرف جنگلات کی تحفظ بلکہ بے روزگاری میں بھی کمی تو آئی ہے۔اگر چہ یہ ایشو انٹرنیشنل سطح کی پالیسی ہے تو اس سے پہلے کسی بھی حکومت اس کیلئے نہیں سوچے تھے نہ اس کے اوپر کوئی پالیسی وضع کئے تھے۔تبدیلی سرکار نے نہ صرف اس پالیسی سے جنگلات کی تحفظ کو یقینی بنایا بلکہ ایک کامیاب پروجیکٹ متعین کرکے عوام کے دل بھی جیت لئے۔موجودہ حکومت کی بلین ٹریز کی کامیابی سے ہمارے چترال کے نہ خوبصورتی دوبارہ بحال ہوسکتا ہے بلکہ مختلف جگہوں میں سیلاب آنے سے دریاء چترال  زمین کی ٹکراؤ اور زیادہ نقصانات نہیں ہونگے جو کہ ہمارے لئے نیک شگون ہے ۔سیلابی ریلے میں خاطر خواہ کمی بھی نظر آئے گا جس سے چترال کی پیداوار کو بھی بہت سے فائدہ پہنچنے کا قوی امکانات موجود ہیں کیونکہ چترال میں پائے جانے والے پیداوار کی 99فیصد نالوں میں سیراب ہوتے ہیں بدین وجہ اس کی کامیابی کا سر بھی یہ ہی بلین ٹریز پر منحصر ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ ہمارے بنجر اراضیات اور دریاء کنارے River Bad میں یہی پروجیکٹ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جہاں انکی کامیابی ایک مثال ہے۔اس کے پیش نظر حکومت حکومت جنگلات کی تحفظ کیلئے ہر گاؤں کی سطح پر محکمہ فارسٹ کو فعال بنانے کیلئے ،،نگہبان،،مقرر کی ہیں جوکہ ہر جنگلات میں اگنے والے خود رو دیار کے پودوں کو بھی تحفظ ہوسکتی ہے جن کو پہلے بکریوں سے نقصان پہنچتا تھا اس پالیسی سے نہ صرف جنگلات کی تحفظ بلکہ بے روزگاری میں بھی کمی تو آئی ہے۔اگر چہ یہ ایشو انٹرنیشنل سطح کی پالیسی ہے تو اس سے پہلے کسی بھی حکومت اس کیلئے نہیں سوچے تھے نہ اس کے اوپر کوئی پالیسی وضع کئے تھے۔تبدیلی سرکار نے نہ صرف اس پالیسی سے جنگلات کی تحفظ کو یقینی بنایا بلکہ ایک کامیاب پروجیکٹ متعین کرکے عوام کے دل بھی جیت لئے۔

Facebook Comments