شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ٹمبر مافیا

ٹمبر مافیا

چترال صوبے کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے جو 14850 سکوئر کلومیٹر پر محیط ہے۔چترال کے ابادی پانچ لاکھ کے قریب ہے ۔سینکڑوں کلو میٹر بطرف مغرب افغانستان کیساتھ ملا ہوا ہے۔محکمہ فارسٹ کے حساب سے چترال کے اندر جنگلات 1.67 فیصد ہیں جو کہ مستقبل قریب میں چترال کے ابادی کیلئے ناکافی ہیں۔ستم ظریفی ہمارے چترال کی یہ ہے لیڈرشپ کی فقدان ہے ہمارے لیڈر شپ بشمول حکومت ٹمبر مافیا کے سامنے بے بس ہونے کیوجہ سے Windfall پالیسی کی آڑ میں سرسبز وشاداب اور نومولود درختاں کی کٹائی سابقہ ادوار کی طرح تاہنوز بھی جاری ہے۔فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے Working Plan کے تحت قابل کٹائی درختاں تین قسم کے ہوتے ہیں ۔1- ونڈفال۔2-رینڈفال3- سنوفال۔ان میں ونڈفال سال 1988 ء سے ختم ہوچکے ہیں۔رینڈفال جس کو ہاف ڈرائی بھی کہتے ہیں یعنی بیمار درخت ہزاروں میں ایک ہوتا ہے۔سنوفال جوکہ جنگل عشریت اور لواری ٹاپ میں جب Landsliding آئے گا جسکی وجہ سے مضبوط درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا،وہ بھی نہ ہونے کے برابر باقی تمام جنگل اس افت سے محفوظ ہیں۔ اگر ٹمبر مافیا غیر قانونی نہیں کرتا کٹائی تو موجودہ حکومت FDC کے office سے جاری شدہ office order no-41 date-2/8/2013.,Lot no-637m- Compt No- 9/10 کو ملاحظہ کریں جس میں 4,13,43240 روپیہ کس کا کس لئے جرمانہ ہوچکا ہے۔تبدیلی سرکار اس پر واضح موقف اپنانا چاہئیے جس کا وعدہ وعید الیکشن سے پہلے کر رہے تھے۔وگرنہ ہمیں بحیثیت قوم سوچنا ہوگا ہمارا مستقبل نہ ماضی میں نہ حال اور نہ مستقبل ٹھیک ہے۔چترال کے جنگلات ہمارے دفاعی سطح پر بھی کارامد ہیں لہذا قومی سلامتی کا واحد ادارہ پاک فوج ہے ان کی حفاظت کیلئے بھی فوج خود سوچے کہ یہ جنگلات قدرت کی طرف سے بھاڑ ہیں جو ہمارے لئے حفاظتی تدابیر سے کم نہیں۔۔جاسر علی چترال

Facebook Comments