شہ سرخیاں
Home / اقبال حیات / چترال کی بیٹی کا قتل

چترال کی بیٹی کا قتل

پنجاب میں بیاہی گئی سرزمین چترال کی ایک بیٹی کی سفاکانہ  اور بیہمانہ قتل  اور خصوصاً اس کی معصوم بچی کے سینے پر چھریوں کے کئی وار کے تصور کا جہان حرکت قلب پر اثر انداز ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ وہاں ایک کلمہ گو مسلمان کی شقی القلبی اور درندگی کے مظاہرے پر ندامت سے سر بے ساختہ جھکنے کی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے۔ پورے چترال میں اس اندوہناک واقعے پر سوگ کا اظہار کیا گیا۔ اور احتجاجی مظاہرے کرکے مجرم کو قرارواقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

 

جو حالات وواقعات کے تناظر میں “نقارخانے میں طوطے کی آواز کے مماثل ہے۔بحرحال اس واقعے پر جذبات کا اظہار کرنا”خودکردہ راعلاج نیست”کا مصداق ہے۔ کیونکہ ” آف ہیرا موش ئیئ نیسائی۔  ژاراپان  زانہ دیتی۔  غیچھان آسمانہ دیتی ۔ گیتی مہ بیندہ نیشائی۔  کیا کی مہ جامار غونی ” جیسی چترالی لوک گیت کی مانند ” نہ جان نہ پہچان کی کیفیت میں گائے کا سودا کرنے کی مانند بیٹی کا رشتہ ایک آنجان شخص سے جوڑا جاتا ہے۔ اور بیٹی کی زندگی کو اپنی مالی فوائد جیسی سُفلی     خواہشات کی بھینٹ چڑھا کر نصیب اور قسمت کے پلو  سے باندھا جاتا ہے۔ اور اس اہم فیصلے میں بیٹی کی رائے کاخیال تک نہیں رکھا جاتا۔ بسا اوقات نوخیز بیٹوں کو عمر رسیدہ ،سفید ریش افراد کی جھولی میں ڈالتے ہوئے بھی شفقت پدری ومادری انگڑائی تک نہیں لیتی۔

 

یوں اس قابل رحم رشتے کو گھر سے کوسوں میل کے فاصلے پر “نظر سے دور دل سے دور” کا شکار کیا جاتا ہے۔ نہ دکھ درد میں اور نہ غم خوشی میں اس تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔اور یہ صنف نازک جیتے جی موت کی کیفیت سے دوچار ہوتی ہے۔ حیرت کا مقام ہے کہ بیٹی اور بیٹوں کے لئے رشتوں کے تعین کے معاملے میں دنیاوی مفادات پر مبنی امور کی تحقیق پر سیر حاصل کاوش کی جاتی ہے۔ جائیداد،ملازمت،تعلیم، شکل وصورت  اور دیگر کوائف کی چھان بین میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے مگر بحیثیت مسلمان کردار،اخلاق اور اسلامی اوصاف کے بارے میں جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ جس کے منفی اثرات ازواجی زندگی میں بگاڑ،باہمی تنازعات اور رنجشوں کی صورت میں آئے دن مشاہدے میں آتے ہیں۔ بدقسمتی سے جوان بیٹی کو بوجھ سمجھنے اور کسی نہ کسی طرح ” ژورو سور  چھاغی بیکو” کھوار تصور  کے تحت اس سے گلو خلاصی کا رجحان ہمارے معاشرے میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔ جو یقیناً اسلا م میں بیٹی کی صورت میں رحمت لفظ سے منسوب مقدس رشتے کی توہین کے مترادف ہے۔

 

نوٹ: (اس موضوع پر تفصیل سے لکھنے کو دل چاہتا ہے مگر پڑھنے والوں کی طرف سے وقت کی اہمیت کا لحاظ رکھتےہوئے مضمون کو مختصر کرنے کے تقاضوں  کا احترام ضروری ہے)۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!