شہ سرخیاں
Home / احتشام الرحمن / *فاروق اعظم صاحب کی بحیثیت ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر ذمہ داریاں*

*فاروق اعظم صاحب کی بحیثیت ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر ذمہ داریاں*

*فاروق اعظم صاحب کی بحیثیت ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر ذمہ داریاں*

 

کسی بھی معاشرے میں بہتری کے لئے کھیلوں کا انعقاد انتہائی اہم ہوتا ہے تاہم پچھلے کچھ سالوں سے چترال میں حکومت کی سرپرستی  میں کھیلوں کے مقابلے نہ ہونے کے برابر تھے. اگر کچھ ہوا بھی تو چند پولو ٹورنامنٹ منعقد کرائے گئے جس سے فائدہ صرف اور صرف بااثر لوگوں کو ہوا. اور نتجتا, نوجوانوں کی اکثریت کھیلوں کی سرگرمیوں سے محروم تھی.

 

تاہم خوشی کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ہوش کے ناخن لیتے ہوئے right man for the right job کے مصداق ایک ایسے شخص کو ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر تعینات کیا ہے جس سے اچھا کوئی آپشن نہیں ہو سکتا ہے.

 

حاجی فاروق اعظم صاحب کے ساتھ میری پہلی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ ہائی سکول بلچ میں تعینات تھے. وہ بلچ ہائی سکول کے طالبعلموں کے لئے ایک فرشتہ بن کر آئے تھے. یہ وہی وقت تھا جب اس سکول نے صوبے کی سطح پر کرکٹ اور والی بال کے مقابلوں میں پوزیشنیں لیں. اس کے علاوہ آپ کی سرپرستی میں انٹر اسکول ٹورنامنٹس میں چترال نے تین مرتبہ ڈویژنل سطح پر نمایاں کار کردگی کا مظاہرہ کیا.

 

اس کے بعد آپ مختلف جگہوں پر کھیل کے میدانوں میں کبھی چترالی نوجوانوں کی نمائندگی تو کبھی assist کرتے ہوئے دکھائی دئے. آپ جب ڈی ایس او تھے تو کھیلوں کے میدانوں میں ہر وقت رونق دکھائی دیتی تھی. نوجوان نسل کو غیر اخلاقی کاموں اور دوسری برائیوں سے دور رکھنے کے لئے کھیلوں کے میدانوں میں رونق پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا. آپ کے ہی دور میں بڑے بڑے ایونٹس منعقد کرائے گئے. آپ کی فرض شناسی ہی تھی جس کی وجہ سے آپ سابقہ ڈپٹی کمشنر چترال جناب شہید اسامہ وڑائچ صاحب کے پسندیدہ آفیسر تھے.

 

اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ آپ ہی کیوں اس پوسٹ کے لئے سب سے موزوں ہیں.

 

 

حاجی فاروق اعظم صاحب کھیلوں کے حوالے سے ایک نمایاں نام ہیں. وہ خود فٹبال, والی بال اور بیڈمنٹن کے اچھے کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے کوچ بھی ہیں. جس سکول میں بھی گئے ہیں ان سکولوں میں کھیلوں کی سرگرمیاں نمایاں رہی ہیں.

 

دوسری بات یہ کہ فاروق اعظم صاحب نے ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن HPE میں MSc کی ڈگری لی ہوئی ہے جو حاجی صاحب کو اس پوسٹ کے لئے سب سے موزوں بناتا ہے.

 

آپ کی نوجوانوں میں مقبولیت اور کھیلوں سے محبت اور خلوص آپ کو اس پوسٹ کے لئے سب سے موزوں بناتا ہے. بجائے اختلاف برائے اختلاف کے چترال میں کھیلوں کی بہتری کے لیے فاروق اعظم صاحب کا ساتھ دیں تاکہ نوجوان نسل منشیات کی برائی سے بچ سکے.

 

فاروق اعظم صاحب سے ایک دو گزارشات کرنا ضروری سمجھتا ہوں:

 

اول یہ کہ جو کھیلوں کے میدان بند پڑے ہیں ان کو آباد کرایا جائے. حکومت پر زور دیا جائے کہ جو گراؤنڈز بننے ہیں ان کی جلد از جلد تعمیر کرائی جائے. اور جو بننے کے آخری مراحل میں ہیں ان کو مکمل کرایا جائے. کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کو ٹاون ایریا تک محدود نہ کیا جائے بلکہ ہر جگہ کرائے جائیں تاکہ نئے اور ٹیلنٹڈ لوگ سامنے آئیں. سال میں ایک بار ضلعی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی کرائی جائے. اور سال میں کم از کم دو بار ضلعی سطح پر talent hunt  کے لئے مقابلے کرائے جائیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرائی جائے.

 

ضلعی انتظامیہ کو بھی چاہئے کہ وہ آپ کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرے بلکہ آپ کے کاموں میں مداخلت دئے بغیر کھیلوں کے فروغ میں آپ کی مدد کرے. اس سے نوجوانوں کو تفریح کے مواقع فراہم ہوں گے, بری صحبت اور نشہ جیسی لعنت سے دور رہیں گے. کھیلوں کی وجہ سے پورے پاکستان میں چترال کا ایک اچھا ایمیج جائے گا.

 

آخری بات جو کہ ضلعی انتظامیہ اور ڈی ایس او صاحب کی خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا وہ یہ کہ چترال میں لڑکیوں کے لئے کھیلوں کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں. جس طرح کھیل لڑکوں کے لئے ضروری ہے ویسے ہی لڑکیوں کے لئے اہم ہے. دونوں کو چاہئے کہ وہ چترالی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے مل کر کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کریں جن سے چترالی بچیوں کے لئے کھیل کے مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ وہ بھی تھوڑی دیر کے لئے کھلی ہوا میں سانس لے کر گھریلو ڈپریشن وغیرہ سے چھٹکارہ حاصل کر سکیں. اس سلسلے میں ڈی پی او صاحبہ کی خدمات بھی لی جا سکتی ہیں تاکہ وہ سیکیورٹی/پردہ وغیرہ کے معلامات میں ضلعی انتظامیہ کی مدد کر سکتی ہے.

Facebook Comments