شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / اپیل بنام جناب ڈی۔ جی سپورٹس ، ڈی۔سی۔صاحب اور ڈی۔ایس۔او صاحب چترال

اپیل بنام جناب ڈی۔ جی سپورٹس ، ڈی۔سی۔صاحب اور ڈی۔ایس۔او صاحب چترال

جناب ڈی۔ جی سپورٹس ، ڈی۔سی۔صاحب اور ڈی۔ایس۔او صاحب چترال کھیل کی اہمیت پر دو رائے نہیں۔ اب تو کھیل بھی انڈسٹری بن چکا ہے۔ صوبائی حکومت اب نوجوان بہترین کھلاڑیوں کو ماہانہ مالی معاونت کے ساتھ ساتھ تعلیمی سکالرشپ بھی دے رہا ہے۔ صوبائی حکومت نوجوانوں کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ بدقسمتی سے چترال کے اندر انڈر 21 کے کھیلوں کے ٹرائل جس طریقے اور انداز سے ہونا چائیے اس طریقے اور انداز سے منعقد نہ ہو سکے جس کی باعث چترال کے باصلاحیت کھلاڑی اپنا وہ مقام نہیں بنا سکے۔ اس سال انڈر 21 کے سالانہ کھیلوں کے ٹرائل تین مارچ سے شروع کرنے کا اعلان جناب ڈی۔ایس۔او نے اج کے میٹنگ کے بعد کیا ہے۔ میری گزارش ہے جسطرح ڈی۔ایس۔او بنوں انور کمال برکی نے انڈر 21 کھیلوں کے ٹرائل کے حوالے سے بہترین منصوبہ بندی کرکے ایک زبردست شاندار طریقے سالانہ ٹرائل کاانعقاد کرتا ہے چترال میں بھی اسی انداز میں امسال انڈر 21 کے کھیلوں کے ٹرائل منعقد کئے جائین۔ ٹرائل کے متعلق بھرپور پبیلسٹی کیا جائے تاکہ دورافتادہ علاقوں کے کھلاڑیوں کی رسائی بھی ممکن ہوسکے۔ ریموٹ ایریاز کے کھلاڑی ٹرائل سے بےخبر ہونے کے باعث شرکت سے محروم ہوتے ہیں۔ لہذا ان کی شرکت کو یقینی بنانے کے موثر پبیلسٹی کیمپن ابھی سے شروع کیا جائے۔ حال ہی میں چترال سکاوٹس ہاکی ٹیم انٹر یونٹ ہاکی مقابلوں کی فاتح ہو کر ثابت کردیا کہ چترال میں ہاکی کا ٹیلنٹ ہے لہذا ہاکی کو بھی آن ٹرائل میں شامل کیا جائے اور ابھی سے ٹیم تشکیل دینے کے لئے چترال کے تجربہ کار ہاکی کھلاڑیوں کو ذمہ داری سونپ دی جائے۔ چترال رسہ کشی ٹیم انٹر ریجن ایونٹ کا چمپئین ہے۔ چترال میں رسہ کشی کے بہترین نوجوان کھلاڑی موجود ہیں لیکن سلیکشن صحیح نہ ہونے کے وجہ سے ان کی نشاندھی نہیں ہو رہا ہے۔ لہذا رسہ کشی اسیوی ایشن کے صدر اور سابق رسہ کشی کے تجربہ کار پہلوانوں کو کمیٹی تشکیل دی جائے اور ان کو پابند بنایا جائے کہ گاوں گاوں جاکر رسہ کشی کے کھلاڑیوں کا انتخاب کریں۔ اس طرح روایتی طور پر ریموٹ ایریا کے جوان اتھیلٹک میں سب سے بہتر ہوتے مثلا رمبور, بمبوریت اور ارندو اس طرح اپر چترال میں مستوج کا پورا علاقہ۔ بدقسمتی سے ان دورافتادہ علاقوں کے جوان ان ٹرائل کے متعلق آگاہ ہی نہیں ہوتے نتیجتا ٹرائل میں شرکت سے محروم ہوتے ہیں جس سے ٹیلنٹ ضیائع ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان باصلاحیت ترقی کے دوڑ میں پیچھے رہ جاتے۔ مختصرا مدعا اپیل یہ ہے کی انڈر 21 کھیلوں کےٹرائل کو سنجیدہ لیا جائے محض formality پورا نہ کیا جائے جو ابھی تک ہوتا آرہا ہے۔ اگر اس حوالے سے ڈی۔ایس۔او بنوں کے خدمات بھی مستعار لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ امید ہے جناب ڈی۔جی، ڈی۔سی۔صاحب اور ڈی۔ایس۔او صاحب اس اپیل پر غور کریںگے۔ شکریہ
Aa
Facebook Comments