شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال گیس پلانٹ منصوبوں کو ختم کرنے کے خلاف چترال میں احتجاجی جلسہ

چترال گیس پلانٹ منصوبوں کو ختم کرنے کے خلاف چترال میں احتجاجی جلسہ

چترال(نمائندہ چترال افئیرز)جمعیت العلماء اسلام چترال نے چترال سے گیس پلانٹ کے منصوبے کو گلگت منتقل کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ کہ سابقہ حکومت میں اس منصوبے کے لئے تین مقامات پر لی گئی آراضی کو اکشن نہیں ہونے دی جائے گی۔اور ہرقسم کا اقدام اُٹھانے پر دریغ نہیں کیا جائے گا۔

 

جمعہ کے روز چترال ٹاون کے پی آئی اے چوک میں منعقدہ ایک احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جمعیت العمائے اسلام لوئر چترال سابق ایم پی اے مولانا عبدالرحمن،سینئر نائب امیر قاری جمال عبدالناصر،سابق ضلع نائب ناظم مولانا عبدالشکور،سینر نائب امیر اپر چترال مولانا فتح الباری اور سیکرٹری اطلاعات قاضی نسیم نے کہا کہ سابق نوازشریف حکومت میں ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین کی کوششوں سے چترال میں جنگلات پر دباؤ کم کرنے اور ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کیلئے گیس پلانٹ منصوبے کیلئے زمین خریدے گئے تھے اورپلانٹ باہر سے منگواکر لاہور پورٹ میں پڑے ہیں۔۔لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اب اس منصوبے کو چترال سے گلگت منتقل کرنے کی باتیں ہورہی ہیں اور حکومت اس سلسلے میں خریدکردہ زمین اور اثاثہ جات کو دوبارہ فروخت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

 

اُنہوں نے کہا کہ چترال میں ایندھن کیلئے جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہوررہی ہے۔اس لئے جنگلات کو بچانے کیلئے یہ پلانٹ واحد بہترین پراجیکٹ تھے۔اس لئے پراجیکٹ کو چترال سے دوسری جگہ منتقل کرنا چترال کے ساتھ ظلم وزیادتی کی انتہا ہے جبکہ موجودہ حکومت جنگلات کی افزائش کے سلسلے میں دعوے کرتے نہیں تھکتی۔

 

اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ اس منصوبوں کی تنصیب پر فوری طورپر کام شروع کیا جائے۔مقررین نے حکومت کی طرف سے ہوشربا مہنگائی کو ناقابل برداشت قراردیا اور کہا کہ آئی ایم ایف کی ایما پر عوام کو ظلم کی چکی میں پسا یا جارہا ہے۔

 

مقررین نے چترال تا کلکٹک مین روڈ کی فوری مرمت اور بروز کے مقام پر متاثرہ سڑک کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔انہوں نے یوٹیلیٹی سٹور میں اشیاء خوردنوش کے ساتھ غیر ضروری اشیاء خریدنے پر مجبور کرنے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اور ادویات کی قیمتوں کوناقابل برداشت قرار دیا۔

 

مقررین نے چترال میں پی ڈی ایم کا اجلاس بلاکر متفقہ پلیٹ فارم سے احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا۔مقررین نے چترال میں غیر معیاری اشیاء کے خلاف حلال فوڈ کے اقدام کو سراہا تاہم اُنہوں نے کہا کہ چترال میں گذشتہ روز ایک رجسٹرڈ فرم کے لاکھوں مرغیاں دریا برد کی گئی ہیں جس کے بارے میں سنا جارہاہے کہ ایک سازش کے تحت یہ قدم اُٹھایا گیا تھا۔جوکہ قابل مذمت ہے۔

Facebook Comments