شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / قاق لشٹ تنازعہ پرعوام بونی کا انتظامیہ اپر چترال کے خلا ف بونی میں احتجاجی مظاہرہ۔

قاق لشٹ تنازعہ پرعوام بونی کا انتظامیہ اپر چترال کے خلا ف بونی میں احتجاجی مظاہرہ۔

بونی(ذاکر محمد زخمی)توکھو،موڑکھو اور بیار کے سنگم میں واقع وسیع میدان قاق لشٹ جو اس وقت تک بے آب و گیاہ صحرا کی شکل میں موجود ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ ہر کوئی اس پر اپنی تصرف جمانے کے لیے کوشان نظر آتے ہیں۔سٹیلمنٹ کے مر حلے جون جون اختتام کی طرف جاتی ہے۔ اس کے ساتھ وابستگی اور اس میں حصہ دار بننے کی خواہش زور پکڑتی جارہی ہے۔ سرکار اسے اپنے ملکیت تصور کرتی ہے تو آس پاس کے عوام اسے اپنے مورثی چراگاہ اور خود کو قدیم الایام کے استفادہ کندہ قرار دیکر اس سے مستفید ہونے کے لیے جد و جہد میں مصروف ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے عوام بونی اپنے قریب کے مخصوص جگے پر شجرکاری کرکے اور انہیں پانی دینے کے لیے ٹینکی بنا چکے تھے۔۔ جسے گذشتہ روزانتظامیہ نے حرکت میں آکر پودے اکھاڑ کر اور ٹینکی پر مٹی بھرکے اپنی رٹ قائم کرنے کی کوشش کی تو بونی میں ماحول کشیدہ ہوگئی۔ عوام بونی اشتعال کے عالم میں دوبارہ ٹینکی سے مٹی نکال کر خالی کرکے آج بونی میں احتجاجی مظاہرے کی کال دے دی۔ علاقے میں دفعہ ۴۴۱ پہلے سے نافذ تھی اور کرونا وباء کی ایس او پیز کی بھی پرواہ کئے بے غیر جمعہ کے روز بونی چوک میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیاجس میں بونی کے جملہ لیڈران نے شرکت کی۔ احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے انتظامیہ اپر چترال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حالات کو خراب کر رہی ہے۔ قاق لشٹ قدیم الایام سے علاقے کے لوگوں کی شامیلات رہی ہے اور اب تک اس پاس کے عوام اس سے مختلف قسم کے فوائد حاصل کرکے آئے ہیں۔ اس وقت انتظامیہ اور سب کو معلوم ہے کے بونی کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔ علاقے کے عوام اس وقت نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں۔ ان کے پاس یہ ہی قاق لشٹ واحد محفوظ پناہ گاہ ہے اس سے محروم رکھنے کسی بھی کوشش ناکام بنا دیا جائیگا۔ یہاں کے عوام پرامن اور محب وطن شہری ہیں۔ ہم کسی کے حق پر قابض نہیں ہو رہے ہیں بلکہ اپنی مورثی چراہ گاہ کو آباد کر رہے ہیں۔ یہ حکومت کی زمہ داری تھی کہ اسے آباد کرکے علاقے کے لوگوں میں تقسیم کرتے لیکن حکومت اپنی زمہ داریوں سے غافل رہی۔ اس لیے عوام بونی اپنی مدد آپ کے تحت ہزاروں پودے قاق لشٹ میں لگا چکے جو کہ وزیر اعظم کے ویژن کے عین مطابق تھے اور انہیں پانی دینے کے لیے ٹینکی بنا چکے تھے انہیں انتظامیہ نے مٹی بھر کر ناقابل استعمال بنانے کی کوشش کی جو کہ قابل مزمت ہے۔ بعد ایم۔پی۔اے چترال کی رابطے پر احتجاجی مظاہرہ کل تک ملتوی کردی گئی۔ ایم۔پی۔اے چترال اس مسئلے کے حساسیت کے پیش نظر خود چترال پہنچ چکے ہیں اور کل بونی میں جملہ حصہ داروں کی موجودگی میں عوام بونی کے ساتھ میٹنگ ہوگی۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!