شہ سرخیاں
Home / مضامین / سانحہ اناوچ سے ہم نے کچھ سیکھا؟؟

سانحہ اناوچ سے ہم نے کچھ سیکھا؟؟

ہمارے سماج کی عمومی روش یہ ہے کہ جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو چند دن تک چٹکلے لے لے کر مجلس در مجلس وقوعے پر الفاظ ِ تاسف کی گردان چلتی ہے، کسی حد تک سیاسی رہنماوں کی طرف سے روایتی مذمتی بیانات اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔چھوٹے درجے کے سماجی لیڈر نجی مجالس میں بلند آہنگ کے ساتھ سانحے اور سبب ِ سانحے پر دانش پھیلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ فیس بُک کو مافی الضمیر کے اظہار کا وسیلہ بنانے والے ایک آدھ پوسٹ لکھ کر غبارِ خاطر نکالتے ہیں۔ پھر کیا ہوتا ہے؟ یہی کہ اُدھر غم زدہ خاندان کے پاس برائے تعزیت وارد ہونے والے وفود کا سلسلہ ابھی پوری طرح تھما نہیں ہوتا اِدھر سانحے کی وجوہات کو طاق نسیاں کی نذر کر کے اگلے کسی خونچکاں سانحے کا انتظار کیا جاتا ہے۔

 

 

انسان، جس کا سبب ِ امتیاز اور وجہ ِ افتخار ہی عقل و شعور اور تدبیر ِ منزل ہے آج عقل و شعور سے کام لے کر خطرات سے خود کو بچانے کی بجائے پیش آمدہ نقصانات کو تقدیر کے کھاتے میں ڈال کر وقتاً فوقتاً لقمہ ء حادثات بنتا جا رہا ہے۔ دماغ عطیہ ء خدا وندی ہے اسے بروئے کار نہ لا کر خود کو آتش ِخطرات میں جھونکنا نہ صرف اپنے پاؤں پر تیشہ چلانے کے مترادف ہے بلکہ شدید کفرانِ نعمت بھی ہے۔

ہماری بہت ساری معاشرتی پریشانیاں ایسی ہیں جن سے ہم شخصی اور معاشرتی سطح پر نہ صرف نمٹ سکتے ہیں بلکہ خود کو بڑے نقصان سے بھی بچا سکتے ہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہمیں اس کا ادراک و احساس نہیں۔ ہم اپنے حصّے کی زمہ داری نبھائے بغیر ہمیشہ فریاد طلب نگاہوں کے ساتھ کبھی انتظامیہ کی طرف دیکھتے ہیں تو کبھی این جی اوز کی طرف۔ ہاتھ پیر ہلا کرخود کچھ کرنے کی زحمت اٹھاتے نہیں اور دوسروں سے توقع باندھتے ہیں کہ وہ آئیں گے ، ہماری مدد کریں گے۔

 

 

اناوچ پل کے حالیہ تباہ کن سانحے کو ہی لے لیجیے کہ کس طرح انسانی غفلت خاموشی سے نو جیتے جاگتے لوگوں کی جانیں نگل کر ہنستے مسکراتے خاندانوں کو اجاڑ ڈالا۔ کیا اس سانحے کے پیچھے خود ہمارا ہاتھ نہیں ہے؟؟ کیا یہ سراسر انسانی کوتاہی نہیں ہے؟ سب جانتے تھے کہ پل جھول رہا ہے۔ جھولتا پل کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم تھا کہ پل زیادہ بوجھ سہہ نہیں پا رہا اور یہ کہ ذیادہ بوجھ والی گاڑی پل پر ڈالنا گاڑی میں سوار مسافروں کوبسہولت موت کی گھاٹ اتار سکتا ہے۔ اس کے باوجود کئی منوں بوجھ والی گاڑی پل پر ڈالنا چہ معنی دارد؟ ڈرائیور کی طرف سے یہ بیباکانہ اور احمقانہ عمل ناقابلِ فہم ہی نہیں، خود کشی کو دعوت دینے کے مترادف نہیں ہے؟؟؟۔

 

 

ٹیکسی ڈرائیورروں کی طرف سے ایسے مواقع پر خطرہ مول لینا کوئی اچھنبھا نہیں، کیونکہ ہمارے یہ ڈرائیور بھائی اپنے مسافروں کا زرا برابر خیال نہیں رکھتے۔ مسافروں کی عزت نفس کا خیال کرنا تو بڑی بات ہے یہ ناہنجار کبھی کبھار مسافروں کی جان تک کی پروا نہیں کرتے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ مختصر مسافت کے سفر میں بھی آوور اسپیڈنگ اور کیرلیس ڈرائیونگ پر ان ڈرائیوروں کو بار بار ٹوکنا پڑتا ہے۔لیکن حیرت مسافروں پر ہو رہی ہے جنہوں نے کھلی آنکھوں کے ساتھ جھولتے پل پر گاڑی ڈالنے دیا۔

 

 

سانحے کے بعد یہاں اس پر تو گفتگو کسی نہ کسی سطح پر ہو رہی ہے کہ پل کمزور تھا۔ ایسے ناپائیدار پل کی منظوری دینے والے زمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ تحقیقات کا مطالبہ غلط نہیں۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ اس سانحے کی زمہ داری انتظامیہ پر عائد کر کے عوام خود کو بری الذمہ قرار دے دیں۔ انتظامیہ کو ایسے واقعات کا زمہ دار ٹھہرانا دانشورانہ فیشن ہو تو ہو لیکن حقیقت میں ایسے سانحات کے اندر انتطامیہ سے دس گنا زیادہ غفلت عوام کی ہوتی ہے۔

 

 

البتہ اس پر کوئی لب کُشائی نہیں کر رہا کہ تھوڑے سے فاصلے پر متبادل پل کی موجودگی کے باؤجود اس پل کا استعمال کیوں کیا ہوا۔ آور لوڈڈ گاڑی لے کر ایسے پُرخطر پل کا استعمال بذاتِ خود اتنی بڑی کوتاہی ہے کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔ کیا یہ طرزِ عمل ہماری عمومی غفلت، اجتماعی لاپروائی، اور غیر ضروری تباہ کُن بہادری پر دلالت نہیں کر رہا۔؟؟ زمہ داری کا ملبہ انتظامیہ اور دوسرے اداروں کے کھاتے میں ڈال کر خود کو سبکدوش سمجھنے کے روش سے ہمیں خود بھی نکلنا ہو گا اور دوسروں کو بھی نکالنا بھی ہو گا۔ اس حوالے سے اہل ِ قلم کو مسلسل آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ سعی پیہم ہو تو ایک دن آگاہی پھیل ہی جائے گی یوں خطرات کا دائرہ ہی کم نہیں ہو گا، ہمارے ڈرائیور حضرات بھی اپنے پسینجروں کو انسان سمجھنے لگیں گے۔

 

 

بہرکیف ہم سانحہء اناوچ کے تمام غم زدہ خاندانوں کے ساتھ بھرپور تعزیت کرتے ہیں۔ امید یہی ہے کہ باقی لاشیں بھی مل جائیں گی اور دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ لاشوں کو ریسکیو کرنے میں ریسکیو عملہ اور اے کے اے ایچ کے کردار پر داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔ زد فزد۔

رنج و الم کی اس مغموم فضا میں قاری فیض اللہ صاحب کی نیابت میں بونی اور مستوج کے علما کا رویہ کافی امید افزا نظر آیا۔ رات بارہ بجے سانحہ ہوا تھا اور اگلے دن کے چار بجے کے قریب قاری فیض اللہ صاحب کی نمائندگی کرتے ہوئے علماء کرام کا وفد نہ صرف اظہار ِ تعزیت کے لیے وہاں موجود تھا بلکہ تب تک کے ریسکیوڈ لاشوں کی تجہیز وتکفین کے لیے تھوڑا بہت نقد تعاون بھی قاری صاحب کی طرف سے دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ ایسے جان لیوا سانحات کے حلق میں اتر کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے والوں کو واپس لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی داغ ِمفارقت دینے والوں کا غم ان کے پیاروں کے ذہنوں سے کھرچ کھرچ کر نکالا جا سکتا ہے۔ پیچھے لے دے کر تلافی ما فات کی صورت لواحقین کی داد رسی اور اشک شوئی ہی بچتی ہے۔ سو ایسے غمگین مواقع پر ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا اور غم میں ڈوبے خاندانوں کا دُکھ بانٹنا جہاں ایک طرف رسم ِ دنیا ہے وہاں دوسری طرف یہ ثواب کا کام بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے محمود سلسلوں کو قائم و دائم رکھنے اور ان کی آبیاری کی توفیق عطا فرمائے۔

 

 

 

Facebook Comments
error: Content is protected !!