شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پشاورہائیکورٹ نے چترال کالینڈ سٹیلمنٹ کاریکارڈ فراہم کرنے سے روک دیا۔انتقالات سرکار کے نام منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف رٹ پر کارروائی

پشاورہائیکورٹ نے چترال کالینڈ سٹیلمنٹ کاریکارڈ فراہم کرنے سے روک دیا۔انتقالات سرکار کے نام منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف رٹ پر کارروائی

پشاور(چترال آفیئرز)پشاورہائیکورٹ نے چترال میں 97فیصد زمینوں کے انتقالات سرکار کے نام منتقل کرنے کے فیصلے کیخلاف دائررٹ پٹیشن پر لینڈ سٹیلمنٹ کا ریکارڈ سینئر ممبربورڈ آف ریونیوسمیت دیگر حکام کو فراہم کرنے سے روک دیا جبکہ 6جولائی تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی،جسٹس روح الامین خان اور جسٹس ناصر محفوظ پر مشتمل دورکنی بنچ نے چترال کے رہائیشوں کے جانب سے دائررٹ پر سماعت کی۔اس موقع پر ان کے وکلاء بیرسٹر اسد الملک،محب اللہ تریچوی ایڈوکیٹ،شاہد علی خان یفتالی ایڈوکیٹ،سابق ایم این اے افتخار الدین،سابق ایم پی اے غلام محمد ،عنایت اللہ اسیر اورد یگر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

رٹ میں موقف اپنایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے سٹلمنٹ کرکے اپر اورلوئر چترال کی97فیصد اراضی سرکار کی ملکیت قراردی گئی ہے جوکہ نہ صرف آئین کے آرٹیکل 172کی خلاف ورزی ہے بلکہ متعلقہ اضلاع کا حق مارنے کے مترادف ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ چترال میں جس طرح زمینوں کی سٹلمنٹ کی گئی ہے اس سے علاقے میں تنازعہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔دوران سماعت بیرسٹر اسدملک نے عدالت کو بتایا کہ ایس ایم بی آر کو چترال کی زمینوں کا ریکارڈ منتقل کیا جارہا ہے،ان زمینوں کا ریکارڈ اور دستاویزات مقامی لوگوں کیساتھ موجود ہے جبکہ ماؤنٹین اور ویسٹ لینڈ کی زمینوں کو سرکار ضبط نہیں کرسکتی کیونکہ ان زمینوں کے حوالے سے آج تک کوئی وضاحت ہوئی ہے نہ ہی اس حوالے سے رولزبنے۔اے اے جی نے عدالت کو بتایا کہ

 بلوچستان ہائیکورٹ پہلے ہی اس نوعیت کے کیس کا نوٹس لیتے ہوئے حکومتی نوٹفیکیشن کالعدم قراردے چکی ہے دورکنی فاضل بنچ نے دلائل مکمل ہونے پر چترال کی زمینوں کا ریکارڈ ایس آیم بی آر،کمشنر ملاکنڈ،ڈپٹی کمشنرز اپرولوئر چترال اور سیٹلمنٹ آفیسر لوئر اور اپر چترال کو فراہم کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت 6جولائی تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ چترال میں زمینوں کے انتقالات کا کسی دارالقضاء سوات میں زیرسماعت تھا جو بعد میں پشاور ہائیکورٹ منتقل کیاگیا۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!