شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / امریکی شہری انورامان چترال میں بی جان ہوٹل کے نام سے جو ہوٹل تعمیر کررہے ہیں، اس کی ملکیت کے بارے میں شہزادہ برہان الدین کے ورثاء اور دوسرے لوگوں کے تحفظات ہیں/کرنل (ریٹائرڈ) شریف الدین

امریکی شہری انورامان چترال میں بی جان ہوٹل کے نام سے جو ہوٹل تعمیر کررہے ہیں، اس کی ملکیت کے بارے میں شہزادہ برہان الدین کے ورثاء اور دوسرے لوگوں کے تحفظات ہیں/کرنل (ریٹائرڈ) شریف الدین

چترال (نمائندہ چترال آفیئرز) سنیٹر شہزادہ غازی برہان الدین کے ورثاء کا نمائندہ کرنل (ریٹائرڈ) شریف الدین نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ڈونرامریکی شہری انور امان اپنے دوست زلفی بخاری کے ذریعے چترال انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر ان کی ملکیتی زمین پر قبضہ جمانے کی کوشش کا نوٹس لیا جائے جوکہ آئین پاکستان ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے منشور کے بھی سراسر خلاف قدم ہے جس میں طاقت کا کھلم کھلا استعمال ہورہا ہے اور جوڈیشل انکوائری کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں۔ جمعہ کے روز چترال پریس کلب میں شہزادہ محمد شجاع ریاض الدین برہان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امریکی شہری انورامان چترال میں بی جان ہوٹل کے نام سے جو ہوٹل تعمیر کررہے ہیں، اس کی ملکیت کے بارے میں شہزادہ برہان الدین کے ورثاء اور دوسرے لوگوں کے تحفظات ہیں کیونکہ اس قطعہ اراضی کے ساتھ منسلک پہاڑی ریاست چترال کے حکمران کی ملکیت تھی جہاں وہ بازوں کے ذریعے شکار کھیلنے کے لئے استعمال کرتے تھے اور اس کی ملکیت ہزہائی نس شجاع الملک کے بعد ان کے بیٹے شہزادہ برہان الدین کو منتقل ہوئی تھی اور اس پر سابق چیرمین ضلع کونسل خورشید علی خان نے 1980ء کی دہائی میں اپنی اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے ناکام کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ 2010ء میں ایک خاص سیاسی جماعت کے مختلف افراد نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس پر قبضہ جمانے کی کوشش کی اور یہاں پر تصادم بھی ہوا لیکن فوجداری مقدمے کا فیصلہ شہزادہ برہان الدین کے ورثاء کے حق میں ہوااور عدالت میں پیشی کے لئے جاتے ہوئے ان کے بڑے بھائی شہزادہ ریاض کی گاڑی کو بم سے اڑانے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ ہوٹل کی خریداری کے وقت اس میں ملوث قبضہ گروپ کے چند بااثر افراد سیاسی عہدوں پر مامور تھے اور اپنی حیثیت کا غلط فائدہ اٹھاکر اس پہاڑی کے اردگرد واقع مقامی سادہ لوح اور شریف لوگوں سے حیلے بہانے اور دھوکہ دہی کے ذریعے خریداگیا کیونکہ وہ اس قبضہ گروپ کی مزاحمت نہیں کرسکتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ قبضہ گروپ کے یہ ارکان جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود دندتاتے پھر رہے ہیں اور علاقے میں دہشت کے علامت بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال جب ہوٹل کو اس متنازعہ تعمیر کے کام سنگ بنیاد رکھا جارہا تھا تو ہم نے انتہائی پرامن اطور پر قاانون کا ارتاستہ اکتیار کیا اور اور مذکورہ بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کے تحت خود اور جعلی بیعہ نامہ جات نہ نسبت جائیداد متدعویہ کو چیلنج کرتے ہوئے سول کورٹ میں مقدمہ دائر کرکے انصاف طلب کی جس کے نتیجے میں عدالت نے ہوٹل کی تعمیر کا کام روکنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت قبضہ گروپ نے انور امان کو آگے کیا جس نے قبضہ گروپ سے جائیداد خریدنے کے دستاویز لے آئے۔ شہزادہ شریف الدین نے دعویٰ کیا کہ قبضہ گروپ کی طرف سے پیش کردہ دستاویز کے جعلی ہونے کا واضح ثبو ت یہ ہے کہ ایک ہی شخص ہر ڈاکومنٹ میں مختلف حیثیتوں سے دستخط کی ہے جوکہ ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیاکہ انورامان کی ذاتی اثرورسوخ کے تحت مذکورہ جعلی دستاویز کو بنیاد بناکر سرکاری اہلکاروں کے ذریعے دھونس اور دھمکی کے ذریعے اپنے نام رجسٹرڈ کرادیا۔ انہوں نے کہاکہ بعد میں جعلی رجسٹریشن کے خلاف جب لینڈ سیٹلمنٹ کے دو اہلکار وں نے دباؤاور رشوت کو ٹھکراکر جب فیصلہ دیا تو ان کو انعام دینے کی بجائے ان کو ملازمت سے بھی برخاست کردئیے گئے اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے ان کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جوکہ ان کی دیانت داری کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب ہم نے اپنے حق کے دفاع کے لئے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرلی تو ایک منصوبہ بندی کے تحت ہمارے خاندان کے خلاف پرنٹ اور سوشل میڈیا میں پروپیگنڈا مہم چلائی گئی ہم چترال میں فائیو اسٹار ہوٹل کے مخالف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مخالفین کی چال بازیوں اور عیاریوں کے باوجود یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ اس بے ہودہ پریپگنڈا میں تین گروہ ملوث ہیں جن میں سے دو کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے جبکہ تیسراایک مخصوص برادری سے تعلق رکھتا ہے جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے سخت مخالف رہے ہیں لیکن یہاں پر مفادات کی خاطر ایک ہوگئے ہیں۔ کرنل (ریٹائرڈ) شہزادہ شریف الدین نے تینوں گروہوں کے سرکردہ افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ لوگوں کے ذاتی معاملات میں دخل دینا بند کریں ورنہ حالات بہتری کی بجائے بدتری کی طرف جائیں گے جس کی تمام ذمہ داری ان پر عائد ہوگی اور جہاں تک زمین کی ملکیت کا معاملہ ہے، اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!