شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال گول نیشنل پارک میں لگی آگ نے تباہی مچادی۔ ریسکیو 1122 کی کوششوں سے آگ پر مسلسل کوشش کے بعد قابو پالیا گیا۔

چترال گول نیشنل پارک میں لگی آگ نے تباہی مچادی۔ ریسکیو 1122 کی کوششوں سے آگ پر مسلسل کوشش کے بعد قابو پالیا گیا۔

چترال گول نیشنل پارک میں لگی آگ نے تباہی مچادی۔ ریسکیو 1122 کی کوششوں سے آگ پر مسلسل کوشش کے بعد قابو پالیا گیا۔
چترال(گل حماد فاروقی) چترال گول نیشنل پارک میں جمعرات کے روز اچانک آگ بڑھک اٹھی جس سنے پورے جنگل کے اپنے لپیٹ میں لینے لگا۔ ریسکیو 1122 کو جونہی اطلاع ملی ان کے جوانوں نے دو گھنٹے مسلسل سفر کرکے جنگل پہنچے اور آگ کے ارد گرد بلاک بنا کر انہیں مزید علاقوں میں پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں ان کے ساتھ محکمہ جنگلات کا عملہ اور مقامی لوگ بھی رضاکارانہ طور پر موجود تھے۔ ریسکو کے پریس ریلیز کے مطابق ان کے جوان ابھی تک جنگل میں موجود ہیں اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کرررہے ہیں تاکہ یہ مزید علاقوں اور قریبی آبادی تک نہ پھیلے۔ ریسکیو 1122 کے انچارج کے مطابق آگ پر مکمل قابو پالیا گیا اور اسے مزید بڑھنے سے روکنے میں ان کے جوان کامیاب ہوئے۔
چند دن پہلے چمرکن کے جنگل میں بھی آگ لگا تھا اور اس کی بجھانے کی کوشش میں ایک فارسٹر بھی شہید ہوا تھا اسی طرح چترال چترال کے ارندو، اوسیک اور دومیل وغیرہ کے جنگلوں میں بھی آگ لگنے سے کافی نقصان ہوا تھا مگر ابھی تک محکمہ جنگلات کے پاس ان جنگلات کو آگ سے بچانے کا کوئی پالیسی یا حکمت عملی نہیں ہے۔ ان کے مطابق عملہ کم ہے اور جنگل زیادہ ہے۔
آزاد ذرائع نے بتایا کہ لوگ وقت سے پہلے چلغوزہ اتارنے کیلئے یہاں چپکے سے آتے ہیں اور اپنے لئے چائے بناتے وقت آگ کو کھلا چھوڑتے ہیں جو ہوا کی وجہ سے مزید پھیل جاتا ہے اور یوں جنگل میں آگ بھڑکنے کا باعث بنتا ہے اس سے اربوں روپے کا قیمتی تعمیراتی لکڑی جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔
چترال گول نیشنل پارک چونکہ Protected ایریا ہے جہاں کافی تعداد میں قومی جانور مارخور، قومی درخت دیار، قومی پھول چنبیلی اور قومی پرندہ چکور پائے جاتے ہیں۔ مگر اس میں بھی غیر قانونی طور پر نہ صرف لوگ چوری چھپے لکڑی کاٹتے ہیں بلکہ مارخور کا شکار بھی کرتے ہیں اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ چند سال پہلے یہاں مارخور کا غیر قانونی شکار ہوا تھا جس پر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس دوست
محمد خان نے از خود نوٹس بھی لیا تھا۔ علاقے کے لوگ چترال گول نیشنل پارک میں آگ بھڑکنے کی وجہ سے کافی پریشان ہیں کیونکہ یہاں ہمارے چار قومی اثاتے پائے جاتے ہیں جن کی زندگی کو شدید حطرہ لاحق ہے۔ چترال کے لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان جنگلوں میں آگ پر قابو پانے کیلئے محکمہ جنگلات کو جدید مشینری فراہم کی جائے اور اگر ممکن ہو تو ان کو بجھانے کیلئے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیا جائے تاکہ اربوں روپے کا قیمتی لکڑی یوں ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!