شہ سرخیاں
Home / ڈاکٹرعنایت اللہ فیضیؔ / انسانی وسائل کی صورتِ حال

انسانی وسائل کی صورتِ حال

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی وترقی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں منعقد ہوا جو رپورٹ اخبارات میں شائع ہوئی اس کی رو سے ملک میں بے روزگاری کی شرح گذشتہ 10سالوں میں بڑھی ہے اور اس کی شرح سرکاری اعداد وشمار کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ ہے اجلاس میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس(PIDE) کی شائع کردہ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا جس میں لکھا ہے کہ تعلیم یافتہ مردوں میں بے روزگاری کی شرح 24فیصد ہے جبکہ پڑھی لکھی اور تربیت یافتہ خواتین میں بے روزگاری کی شرح 40فیصد ہے اس کے مقابلے میں سرکاری اعداد وشمار 10فیصد اور16فیصدبتارہے ہیں۔کمیٹی کے سامنے ایک کیس سٹڈی بھی رکھی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ ایم ایس سی اور ایم فل کی ڈگریاں رکھنے والے نوجوان سپاہی،ڈرائیور اور نائب قاصد کی آسامیوں کے لئے درخواستیں دیتے ہیں ہائیکورٹ نے درجہ چہارم کی ایک آسامی کا اشتہار دیا تو ڈیڑھ لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں جن میں اعلیٰ تعلیم ہافتہ لڑکوں اورلڑکیوں کی درخواستیں بھی آئی ہوئی تھیں معاشی سروے کرنے والے فرموں نے2009میں جو رپورٹ شائع کی تھی اس میں بتاہا گیا تھا کہ2002اور 2008کے درمیانی عرصے میں بے روزگار ی میں کمی آئی اس کے پس منظر میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ اس دوران ملک میں اخبارات،ریڈیو اور ٹیلی وژن چینلوں کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کئے گئے نیز موبائل نیٹ ورک اور اس سے وابستہ کمپنیوں کی وساطت سے بے تحاشا سرمایہ کاری آئی جس میں نوجوانوں کو روزگار ملانئے کارخانے بھی کھولے گئے ان صنعتوں نے بھی روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا۔اگر 2011سے2021تک کے 10سالوں کو لیا جائے توان سالوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہوئے2017سے2021تک 4سالوں میں اخبارات،ٹیلی وژن،ریڈیو اور موبائل کمپنیوں سے لاکھوں نوجوانوں کو فارغ کیا گیا۔ان صنعتوں سے وابستہ جولاکھوں لوگ بالواسطہ روزگار کمارہے تھے وہ بھی دو وقت کی روٹی سے محروم ہوئے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے منصوبہ بندی اور ترقی میں انسانی وسائل کی ترقی پر طویل غوروخوض کیا ماہرین کے نزدیک انسانی وسائل کی ترقی کے تین پہلو نمایاں طورپر دیکھے جاتے ہے پہلا پہلویہ ہے کہ تعلیم وتربیت کا کیا معیار ہے اس کے مواقع کیسے ہیں؟دوسرا پہلو یہ ہے کہ تعلیم وتربیت اور منڈی کی ضرورت میں کتنی مطابقت ہے؟تیسرا پہلو یہ ہے کہ معاشی،صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کی کیا صورت حال ہے؟پُرانے یونٹ کتنے فعال ہیں؟ اور نئے یونٹ کس شرح سے لگائے جارہے ہیں؟ان تینوں پہلوں کو سامنے رکھ کر انسانی وسائل کی ترقی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
چین،جاپان اور جنوبی کوریا میں 80فیصد نوجوانوں کو فنی تعلیم اور تربیت ملتی ہے20فیصد یونیورسٹیوں سے ماسٹرز،ایم فل وغیرہ کرتی ہے وہاں تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والا نوجوان وقت ضائع کئے بغیر کسی کارخانے یا کمپنی میں کام پر لگ جاتا ہے ہمارے ہاں 20فیصد کوفنی تعلیم دی جاتی ہے 80فیصد یونیورسٹیوں سے ماسٹرز اور ایم فل کی ڈگریاں لیکر سڑکیں ناپنے کے لئے میدان میں اُترتی ہے ایک اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کا منڈی کی ضرورت سے کوئی تعلق نہیں ایم اے انگلش یا ایم اے پولٹیکل سائنس کسی کمپنی یا کسی کارخانے میں کام کے قابل نہیں ہوتا،یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ بے روزگاروں میں ہرسال اضافہ ہورہاہے میک آرتھرنے جاپان اور کوریا کو جو تعلیمی نظام دیا وہ جنگ سے تباہ حال قوم کو صنعتی اور معاشی طاقت بنانے کا نسخہ تھا۔ماوزے تنگ نے چین کو جو تعلیمی ڈھانچہ عطا کیا وہ افیون زدہ نسل کو سپرپاؤر بنانے کا فارمولا تھابعد میں سنگاپور،ملائیشیا اور دیگر اقوام نے انسانی وسائل کی ترقی کے ایسے ماڈل پیش کئے جوکامیاب ثابت ہوئے بے روزگاری کے خاتمے کیلئے ہمیں معاشی،تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کو2007کی سطح پر واپس لانا ہوگا تعلیمی اداروں کی منصوبہ بندی میں فنی تعلیم کو اولیت دیکر نوجوانوں کی تین چوتھائی تعداد(75فیصد) کو فنی تعلیم سے بہرہ ور کرنا ہوگا اس طریقے سے اگلے 10سالوں میں انسانی وسائل کے ضیاع اور بے روزگاری میں کمی آئے گی

Facebook Comments
error: Content is protected !!