شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / افسر کے مشاہدات

افسر کے مشاہدات

بڑے افیسروں کے مشاہدات بہت دلچسپ ہوتے ہیں ان میں سماجی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لطیفے بھی ہوتے ہیں قومی زندگی کے بڑے بڑے راز بھی ہوتے ہیں انتظامی اُمور کے تجربات بھی ہوتے ہیں بین الاقوامی تعلقات کے پوشیدہ گوشے بھی آتے ہیں پاکستان میں قدرت اللہ شہاب کی اردو سوانح عمری”شہاب نامہ“ اس حوالے سے مشہور ہے روئیداد خان کی انگریزی کتاب”پاکستان اے ڈریم گان ساور“ بھی مقبول کتابوں میں شمار ہوتی ہے مگر ان دونوں کتابوں میں پاکستانی سماج کے دومشہور کردار عبدالستارایدھی اور عمران خان نظر نہیں آتے۔

بیسویں صدی کی آخری دہائی اور اکیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں کے واقعات نہیں ملتے اگرآپ کو لیڈی ڈیانا کے دورہ پاکستان سے دلچسپی ہے اگر آپ ارباب غلام رحیم اور میاں شہباز شریف کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کوخیبر پختونخوا کے دبنگ افیسر شکیل درانی کی انگریزی کتاب ”فرنٹیر سٹیشنز“ کھولنی پڑے گی کتاب کھولنے کے بعد آپ بھی کہینگے ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی بڑے افیسر کی اہم کتاب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ماں کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور دوستوں کے ذکر پر ختم ہوتی ہے درمیان میں دنیاجہاں سماگئی ہے آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ ضلع خیبر میں وادی تیراہ سے تعلق رکھنے والے دوبھائی میرمست اور میردست جنگ عظیم میں برطانیہ کی فوج کے ساتھ منسلک تھے،

جنگ کے دوران ایک بھائی جرمنوں سے جاملا،دوسرا بھائی برطانوی فوج میں رہا جنگ کے اختتام پر ایک بھائی کو جرمنی کا سب سے بڑا اعزاز ملادوسرے بھائی کو برطانیہ کا سب سے بڑا اعزاز وکٹوریہ کراس دیا گیا دونوں کے پوتے اور پڑپوتے آج بھی وادی تیراہ میں رہتے ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر دوسرے ضلع کے نجی دورے پرتھا زلزلہ برپا ہوا پہاڑوں سے پتھر برسنے لگے تو گاڑی سے اُترا فوجی چوکی میں گھسے سپاہیوں کے ساتھ چھت پر چڑھ گئے جب زلزلہ بند ہوا دھول بیٹھ گئی تو ایک سپاہی نے پوچھا آپ کیا کام کرتے ہیں اُس نے کہا فلاں ضلع کا ڈپٹی کمشنر ہوں سپاہی نے کہا میں بھی اُس ضلع کا ہوں مجھے اسلحہ لائسنس چاہیئے سیڑھیوں سے اُترتے ہوئے ایسے چھ سپاہی اورملے۔

ڈپٹی کمشنر کو ان کی حاضر دماغی اور مطلب براری پر تعجب ہوا ہمیں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ان کو اسلحہ لائسنس کی فکر ہے۔آپ یہ جان کر حیراں ہونگے گلگت سے سیسنا جہاز کی پرواز کے 20منٹ بعد بادل آگئے جہاز ہچکولے کھانے لگا پائیلٹ نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا جہاز کے تین مسافروں نے کہاچلو لنچ باکس کھولتے ہیں مرنے سے پہلے آخری لنچ کرتے ہیں۔تینوں مسافر لنچ میں مصروف تھے کہ بادل ہٹ گئے ہوا رُک گئی جہاز خطرے سے باہر نکل آیا پرواز ہموار ہوگئی پائلٹ نے خدا کا شکر ادا کیا کہ”جان بچ گئی میرے مولا نے خیر کی“ورنہ لنچ کے متوالوں کو لیکر کس کھائی میں گرجاتا۔یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ1981کی رات ایک پہاڑی مقام پر2بجے ڈپٹی کمشنر کو صدر مملکت کافون آتا ہے مگر بات ہونے سے پہلے لائن کٹ جاتی ہے ڈپٹی کمشنر سوچتا ہے دشمن نے حملہ کیاہوگا

اللہ خیر کرے اگلے لمحے لائن لگ جاتی ہے بات شروع کرکے صدر مملکت کہتا ہے میرا مہمان آرہاہے اس کی خوب مہمان نوازی کرو اگلے روز مقامی فوجی کمانڈر بھی ساتھ ہوتا ہے انجینئرز کور کا بریگیڈئیر بھی آجاتا ہے ائیرپورٹ پر صدر کا پوماہیلی کاپٹر اُترتا ہے تو ہیلی کاپٹر سے امریکی اخبار نویس گلے میں کیمرہ لٹکائے باہر آجاتا ہے۔جب اس کی رپورٹ چھپتی ہے تو اس میں جنرل ضیاء الحق سے زیادہ ڈپٹی کمشنر کا ذکر ہوتا ہے آپ کو یہ بات بھی دلچسپ لگے گی کہ1991ء میں لیڈ ی ڈیانا نے چترال کا دورہ کیا تو کمشنر نے صوبائی وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ان کی آنکھوں میں مایوسی نظر آتی تھی اور ان کی باتوں سے کسی انجان احساس محرومی کی جھلک ملتی تھی۔آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ1973میں ذولفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو ایبٹ آباد کے گورنمنٹ ہاؤس میں ٹھہرے تو وی وی آئی پی لاونج کی اندورنی چھت پر دو پرندوں نے گھونسلے بنائے ہوئے تھے ایسے دلچسپ واقعات کے ساتھ ملک میں قدرتی وسائل کے استعمال،جنگلات اور جنگلی حیات کے حفاظت،نظم ونسق کی بہتری کے لئے جامع اور قابل عمل تجاویز آپ کوملینگی مصنف کو اس بات پر افسوس ہے کہ1973ء میں والٹن اکیڈیمی سے نکلنے کے بعد44سالہ سروس میں ملکی قیادت کا رویہ درست نہیں ہوا۔معین قریشی اور شوکت عزیز کے سوا کوئی ڈھپ کا لیڈر نہیں ملا۔شکیل درانی کے مشاہدات کو شہاب نامہ کا انگریزی ایڈیشن کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!