شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / چترال کے فضاؤں میں بین الاقوامی پروازوں کی بھرمار، ائیرپالوشن میں بھی اضافہ

چترال کے فضاؤں میں بین الاقوامی پروازوں کی بھرمار، ائیرپالوشن میں بھی اضافہ

چترال(نمائندہ چترال آفئیرز) گزشتہ کچھ مہینوں سے چترال کے فضاؤوں میں انٹرنیشنل پروازوں کی بھرمار ہے۔ ہر بیس منٹ بعد کوئی نہ کوئی جہاز چترال کے اوپر سے گزرتی ہے۔ اور بعض اوقات بہ یک وقت تین سے چار جہازیں بھی محوے پرواز ہوتی ہیں۔ علاقے کے لوگ حیران ہیں کہ اچانک ان پروازوں میں اضافہ کسطرح ہوا۔ جو چترال میں بھی پالوشن میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
کچھ فلائٹس پہلے سے چترال کے اوپر سے گزرتی تھیں مگر گزشتہ چند مہینوں سے ان پروازوں میں اچانک غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ چترال ٹائمز کو موصولہ اطلاعات کے مطابق افغانستان میں طالبان نے حکومت سنبھالنے کے بعد افغان علاقوں کے اوپر سے بین الاقوامی پروازیں اُڑان بھرنا بند کردیا ہے۔ اور وہی پروازیں پاکستان کی حدود سے ہوتے ہوئے چترال کے فضاوں سے گزرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے پروازوں میں اضافہ کے ساتھ ائیر پالوشن میں بھی اضافہ ہوگیاہے۔
ان پروازوں میں اضافہ کی ایک وجہ ”افغانستان میں فضائی ٹریفک کی خدمات کی کمی اور ایک فعال سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ساتھ ساتھ جاری سیکورٹی خدشات کی وجہ سے امریکہ کے سول آپریٹرز، پائلٹوں، اور امریکہ کے رجسٹرڈ سول طیاروں کو افغانستان کے زیادہ تر حصے میں کسی بھی اونچائی پر سے گزرنے سے منع کیا گیا ہے

چترال کے فضاوں سے لندن، مانچسٹر، بیجنگ، دوحہ، دہلی، نیویاک، ممبئی، چینائی، اسٹراڈم، لاہور، اسلام آباد پاکستان، فرنکفروٹ، جنوبی کوریا، ماسکو روس، سن فریسکو وغیرہ کی پروازیں گزرتی ہیں۔ ان میں اکثریت برٹش ائیرویز، اتحاد ائیرویز، یونائٹیڈ ائرلائنز، امریکن آئرلائن، ائرکنیڈا،ائر انڈیا،ویرجن ایٹلانٹک کے علاوہ سنگاپور کے کارگوائرلائنز بھی شامل ہیں۔ یہ بوئنگ جہاز چترال کے اوپر سے گزرتے وقت تیس ہزار سے لیکر پینتالیس ہزار فٹ کی بلندی پر محوے پرواز ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہی پروازیں نوائس پالوشن کے ساتھ کرہ ارض کیلئے بھی مضر ہیں ۔ کیونکہ یہ گلوبل وارمنگ اور آلودگی میں حصہ ڈالتے ہیں اور جہاز کاربن کا ایک بڑا نشان چھوڑتا ہے۔ چونکہ ہوائی جہاز مٹی کے تیل کے ایندھن پر چلتے ہیں، جو دھندکے بعد فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گیسوں کی ایک بڑی مقدار خارج کرتی ہے۔ماہرین کے مطابق ہوائی جہاز مقامی اور عالمی سطح پر فضائی آلودگی کے اخراج کے بڑھتے ہوئے تناسب کے بھی ذمہ دار ہیں۔
ان جہازوں سے خارچ ذرات گلیشیر کے البیڈو کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کے لیے جانے جاتے ہیں – جسے اس کی عکاسی کہا جاتا ہے۔ آلودگی کے ذرات البیڈو پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ وہ جزوی طور پر شمسی تابکاری کو گلیشیر کی سفید، چمکدار سطح سے اچھالنے سے روکتے ہیں، بجائے اس کے کہ گرمی کو جذب کرتے ہیں جس کے نتیجے میں گلیشیئر پگھلتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق عالمی ہوا بازی کی صنعت تمام انسانی حوصلہ افزائی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) کے اخراج کا تقریباً 2% پیدا کرتی ہے۔ سڑک کی نقل و حمل سے 74% کے مقابلے میں ایوی ایشن تمام نقل و حمل کے ذرائع سے کاربن ڈائی اکسائڈ(CO2) کے 12% اخراج کے لیے ذمہ دار ہے،
فضائی آلودگی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی گرین ہاؤس گیسیں شامل ہیں۔ گرین ہاؤس گیسیں زمین کے ماحول میں سورج سے گرمی کو پھنس کر آب و ہوا کو گرم کرتی ہیں۔ ناسا کی ایک تحقیق کے مطابق اوزون کی آلودگی یا سموگ میں اضافہ بعض علاقوں میں گرمی کا باعث بن رہا ہے۔ اور اس گرمی سے گلیشئر ز کے پگھلنے کے عمل میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ایک طرف حکومت چترال کے جنگلات کو بچانے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اُٹھارہی ہے تودوسری طرف ائیرپالوشن سے چترال اور شمالی علاقہ جات کے گلیئشرز کومذید پگھلنے کا موقع مل رہا ہے۔ جوکہ تشویشناک ہے۔




بشکریہ:چترال ٹائمز

Facebook Comments
error: Content is protected !!